مشہور براڈ کاسٹر اور شاعر پروفیسر عبید صدیقی نہیں رہے

نئی دہلی: مشہور براڈ کاسٹر اور شاعر پروفیسر عبید صدیقی کا آج صبح غازی آباد کے یشودا اسپتال میں مختصر بیماری کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 63 برس تھی۔

مغربی اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں پیدا ہوئے پروفیسر عبید صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی، اور اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے، شعبہ اردو میں ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

پروفیسر عبید صدیقی  نے اپنے کیریئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا تھا اور وہ سری نگر اسٹیشن سے وابستہ رہے۔ 1988 میں ان کا انتخاب بی بی سی لندن کی اردو سروس کے لیے ہوا، اور 1996 تک بطور اناؤنسر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ لندن سے واپسی  کے بعد این ڈی ٹی وی میں شمولیت اختیار کی اور میگزین ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ 2004 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم سی آر سی شعبے سے بطور پروفیسر وابستہ ہوئے۔

ان کی تدفین کل دن کے 2 بجے بعد نماز جمعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں عمل میں آئے گی۔

پسماندگان میں ایک بیٹی شامل ہے۔ ان کے انتقال پر ان کے قریبی دوستوں قربان علی اور معصوم مراد آبادی نے شدید رنج و غم کا  اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایک بہترین دوست اور صاحب طرز شاعر کھو دیا ہے۔

معصوم مراد آبادی اپنے فیسبک ٹائم لائن پر لکھتے ہیں، عبید بھائی کی رحلت ہم سب کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ وہ اپنے مزاج کی نزاکتوں اور طبیعت کی تیزی کے باوجود ہم سب کے دوست تھے۔ ان کا تعلق میرٹھ سے تھا جہاں انھوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں حفیظ میرٹھی سے استفادہ کیا۔ وہ علی گڑھ میں فرحت احساس ، آ شفتہ چنگیزی، مہتاب حیدر نقوی اور سب سے بڑھ کر جاوید حبیب کے دوستوں میں تھے۔ انھوں نے شاعری میں شہریار کو اپنا استاد بنایا اور ان کے ہی ہوکر رہے۔ شہریار جب بھی دہلی آ تے تو وہ عبید صدیقی کے مہمان ہوتے تھے۔

وہ لکھتے ہیں، ایک زمانے میں ای ٹی وی اردو کے پروگرام "ہمارے مسائل "کے میزبان بھی رہے۔ 2010 میں ان کا پہلا مجموعہ کلام ” رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے” شائع ہوا تو بڑی محبت کے ساتھ اپنے دستخط کے ساتھ ایک کاپی روانہ کی، جو میری ذاتی لائبریری میں ان کی واحد یادگار ہے۔ عبید صدیقی اپنی طرز کے اکلوتے انسان تھے۔ ان کی اس دنیا میں بہت کم لوگوں سے نبھی مگر وہ جنہیں پسند کرتے تھے ان سے پورے خلوص سے ملتے تھے۔ اللّہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کے لیے دعاگو ہوں۔ ان کا ایک شعر پیش خدمت ہے۔

انھیں سنبھال کے رکھنا پڑے گا آ نکھوں میں

یہ خواب خوابوں کا حاصل بتائے جاتے ہیں