یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

ابراہیمی نظریہ واوصاف کے بغیرویران ہی رہے گا دنیا کی امامت کا منصب

نعیم جاوید، سعودی عرب

 

آج دنیا نظامِ فکر کی تلاش میں ہے۔انسانیت پُرامن عالمی قیادت کو ترس رہی ہے۔ عکس وآواز کی دنیا سے ابھرنے والی ہرخبر، بکھری ہوئی نظر یا شکستہ نظریوں کی آواز ہے۔ آج کی اِن دکھ بھری دہائیوں اور صدموں کی صدی میں ایک ایسی ربانی بشارت جو تین گروہوں کی مشترکہ وراثت ہے۔ جو پر سکوں قیادت بھی ہے اور ایک نظام فکر دے بھی سکتی ہے۔آسمانی ادیان میں سے ایک آلِ یعقوبؑ کے جانثار یہودیوں کے پاس۔ دوسری حضرت عیسیٰؑ کے حلقہ نور میں رہنے والے مددگار مسیحیوں کی متاع اور آخری نبی رحمت ﷺ پر دل وجان نچھاور کرنے والے مسلمانوں کے ہاں، جسے وہ اپنی جانوں سے زیادہ قیمتی مانتے ہیں۔ تینوں کے تہذ یبی دھاروں میں معتقدات کی فکری وحدت موجود ہے۔ تینوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے شخصیت اور ان کی عالمی قیادت کے ربانی حوالوں کو تسلیم کرتے ہیں جو توحیدِ ربانی کی بنیاد تک رسائی کا تنہا سہارا ہے۔ اسی لیے قرآن نے پچیس بار ابراہیمؑ کے ذکر سے ہمیں منور رکھا اور ایک بھر پور اعلان بھی ہے کہ ’’زندگی کی مہمات میں پورا اترنے پر سیدنا ابرہیمؑ کو امامت کا منصب عطا کیا گیا‘‘۔
وَ اِذِابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاً (سورۃ البقرہ : ۱۲۴)
جس طرح ’’سورج‘‘ رب کی ایک آیت ہے اُسی طرح ابراہیمؑ کی امامت کا اعلان بھی آیتِ ربانی ہے جو جھٹلائی نہیں جاسکتی جو اب بظاہر سیاسی مکر کے سبب انکار کی اوٹ میں چھپی ہوئی ہے لیکن ان کی قیادت کا سورج پورے آفاق پر روشن ہے۔ اس سورج کو کہیں دو عمارتیں گرا کر اس کے دھویں سے چھپانے کی کوشش کی گئی تو کہیں پٹرول کی تونس نے عرب کی زمین میں اولادِ ابراہیمؑ کا خون چوسنے پر نظریاتی برادریوں کو لگا رکھا ہے۔ وحی کی سرزمین پر ربانی رشتے توڑے جارہے ہیں تو دوسری طرف ہند کا صنمیاتی نگار خانہ، براہیمؑی نظر کے انتظار میں ہے۔ جہاں آج محدود ذہن جمہوریت کا جنازہ اٹھائے فسطائی غاروں میں حریت فکر کی لنچنگ کر رہا ہے۔ کہیں عبادت گاہیں ڈھاکر تو کہیں ملک کا دستور ٹھکرا کر۔ ان کی ’’عقل پر آفرین‘‘ ہے کہ فسطائی وحشت کے یہ گل کھلا کر زمانے پر چھا جانے اور انسانیت کو امن باٹنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اقبال اپنے اشعار کے آئینہ تمثال میں زمانوں کی یقین افروز منظروں کو رکھ دیتے ہیں۔
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
نئے عہد کا آبرو مندانہ خواب دیکھنا ایک جرات آزما کا م ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے کہا تھا کہ
’’ اَناَ الَنّبیِ الَمُلہمہَ‘‘ میں مہمات کا نبی ہوں۔ اس لیے نبیﷺ کے چاہنے والے اپنی تلاش میں انبیاء کے تینوں وارثین کے دانش کدوں کی خبر لیتے رہیں۔ براہیمیؑ تصور ہی انسانیت کا ابدی گھر ہے۔ اسی یقین پر آنحضور ﷺ نے کبھی جغرافیہ کی آڑی ترچھی لکیروں کے کس بل سیدھے کیے تھے۔ آج کے عرب کے یہ مسلم رجواڑے ندی، نالوں، پہاڑوں اور صحرا کو کل کائنات سمجھ بیٹھے ہیں۔ بین الملی اور بین الاقوامی مسائل کو وسائل سے جوڑ کر کم ہی دیکھتے ہیں۔ جو مکمل اپنے ہیں ان سے سرحدوں کی باڑھ پر ملتے ہیں۔ ان کے تعلقات صرف اس پر استوار ہیں کہ دانا، پانی اور چارہ لینا ہے اور آپس میں ایک دوسرے کی جھرتی لیتے رہنا ہے۔ اس مقام پر اقبال کے چند نکات ِیقین دیکھیں۔
بتان رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ہندوستان کے تناظر میں ایک اہم نکتہ انسانی قیات وامامت کا جو ایک کلیدی راز ’سورۃ احزاب‘ کے نام وپس منظر میں ہے۔ ہم نے اس سورۃ کے اشارے یعنی ’حزب‘ کے اشارے کو خندق کے نام کرن کر کے ’حکمت فراموش کارگزاری‘ دکھائی ہے۔ یہ قرآنی دانش مدت سے ترجمہ کی بلی چڑھی ہوئی ہے۔ ہمارا کام تھا کہ ’احزاب‘ کو جوڑتے۔ ملک کے تمام قبائل جو وطن کے طول وعرض، شہروں بلکہ غیر آباد جنگلوں میں رہتے ہیں، ان سے ربط وتعلق رکھتے، باہم صلح کل کی مشترک راہیں استوار کرتے، آپسی ترقی کی تمناوں کی تنظیم کرنے والے معاہدات کرتے تو آج ملک کا منظر نامہ مختلف ہوتا۔
آہ شودر کے لیے ہندوستان غم خانہ ہے
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
مظلوم وپسماندہ قبائل وطبقات کے علاوہ صرف ریاست آندھرا پرادیش میں ریڈی، راو کے علاوہ تیئیس قبائل ہیں۔ شمال میں یادو کے علاوہ اور دیگر کئی گروہ آباد ہیں۔ اسی طرح مہارشٹرا میں مراٹھوں سے ہم نے قبائل کو نہیں جوڑا بلکہ یہ مان کر چلے کہ برہمن اور چھتری بھی ہمارے دشمن ہے۔ جب کہ قیادت وامامت کو مطلوب زاویہ نگاہ تو یہ ہوتا ہے کہ ’دار الاسرا‘ کا سیاسی ادارہ ہو۔ ’دارالعجلہ‘ کا معاون سیاسی مرکز ہو یا ’دارالندوہ‘ کی مرکزی مقننہ ہو لیکن نبوت کی حکمت ماٰب زبان نے کبھی بھی اداروں،قبائل اور گرہوں کو اجتماعی دشمن قرار نہیں دیا۔ اگر ہم دشمنانِ اسلام کی نسلوں کی دینی خدمات کا معروضی مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کیسے عرب کے روایتی معاہدات کی دنیا جو محدود تھی ’حلف، ولا اور جوار‘ کے معاہدات تک اس کو ہم نے کبھی مواخات سے بدلا تو کبھی دیگر معاہدات، مواثیق، مصلحت اور قوت سے دلوں کو جوڑا ہے۔منتشر سرحدوں کو ملایا ہے اور صدیوں کے فاصلوں کو گھٹایا ہے۔ آج اسی حکمت کے چھاوں میں پوری انسانیت پناہ لینے کو منتظر ہے۔ عالمی قیادت کے لیے اگر فکر اقبال سے رہنما اصول کا انتخاب کرنے کی تمنا میں دیکھیں کیا کہتے ہیں کہ کیسے عصر حاضر تلاش ابرہیمؑ میں مضطرب ہے۔
آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
شانِ خلیلی کی جلوہ سامانیاں تو ہر تصور کے صنم کدے میں یہ اعلانِ محبت کرتی کہ وہی ایک الہٰ ہے اور پوری انسانیت اس کا کنبہ ہے۔ اسی ربانی دلیل کی تلاش میں براہیمیؑ نظر حسن فطرت کی نیرنگیوں کی اوٹ میں اس نگارندہ اعصار وآنات کو پالیتی ہے۔
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری
بظاہر دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک سادہ وسعید روح ابرہیمؑ نے معصومانہ سوالات اپنی کائنات سے کیے کہ ’اَئے تارو! تمہارا وجود کیوں جل بجھ جاتا ہے؟ اے چاند! تو کہاں کھو جاتا ہے؟ اے توانا سورج! تجھے بزم انجم سے نکل جانے کا حکم ہر دن کون دیتا ہے؟ اگر تم سب ڈوبنے والے ہوئے تو پھر وہ ذات میری ہوئی جو ڈوبتی نہیں۔ ہاں! وہی ذات جو تمہیں زندگی دے کر کائنات سجاتی ہے۔ ڈوبنے، ٹوٹنے اور بکھرنے والوں کو کب خدا قرار دیا جاسکتا ہے؟ ان سے کون محبت کر سکتا ہے؟ سوالوں کی یہ جستجو، معاشرے میں پھیلے توہمات کے ترشے ہوئے صنم کدے میں ابرہیمؑ کا جرات آزما مہماتی اقدام تھا۔ انہی سوالوں نے ان کی فکر کو عرفانِ رب ایک دولتِ بیدار عطا کردی۔
وہ سکوتِ شام صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بین خلیل
بلکہ ’براہیمی نظر‘ سے پیدا نتیجہ خیزی نے ایک اصول سب انبیا کی انجمن کے نام کیا۔
تارک آفل براہیم خلیل
انبیا را نقشِ پائے اودلیل
ابراہیمؑ خلیل کی نظر جو ہر ’’آفل وجود یعنی ڈوبتی ہستیوں‘‘ کا انکار کرتے ہوئے رب کی راہ روشن کا انتخاب کرنے والی بنی تب ان کی چنی ہوئی راہ گزر ہی تمام انبیا کے لیے نشانِ راہ بنی۔ اسی سبب نبی آخر زمان ﷺ کی مثالی زندگی جو ابراہیمیؑ نظر ونظریہ پر تھی وہ بیمار انسانیت کی ڈوبتی نبض کو شفا آسا نسخے کے قریب کر گئی۔ اس لیے خدا نےقرآن میں بنائے کعبہ کی تاریخی گھڑیوں میں یہ ڈھارس دی کہ ابرہیمؑ! تمہاری مسلم قیادت اور آواز پورے آفاق میں گونج اٹھے گی اور ہم اس کو پہنچائیں گے۔
اِدھر ہم نے اس پیغام سے غفلت برتی اُدھر مغربی جیال اپنی ہوش ربا ترقیوں، خوش رنگ عمرانی تصورات اور سیاسی فکر کو لے کر ’’تاجری سے تاجوری‘‘ تک آ گئے۔ تو کیا ہوا، ہم یہ رب رنگ براہیمیؑ قیادت اور وژن کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتے۔ جب کہ دنیا نے ایک طرف یہ بھی دیکھ لیا کہ مغربی دنیا سے ابھرنے والے عالمی حکمرانوں کی جل بجھنے والی قیادت فلاح کی راہ نہ پاسکی۔ دوسری طرف عرب کی سر زمین ذخائر سے مالا مال ہے ہو کر بھی اپنی ذہنی خشک سالی اور فکری بانجھ پن کا حل نہ ڈھونڈ سکی۔ جس کے سبب عرب کے شاہوں کی غلام گردشیں، ان کی قومیت ونسلی برتری کے سبب ان کے محلات کے کاریڈور سے نکل کر دنیا کو کوئی راہ سعاد ت نہ دے سکی۔ ایک بار پھر اقبال کے گہر بار شعر کی طرف دیکھیں؛ کہتے ہیں کہ ’’آزر کے بیٹو اپنے فکر ونظر کے کعبہ کی بنیاد رکھو اور اسے تعمیر کر ڈالو اور جیسے کہ کبھی کسی خاک پر ہی کعبہ بنا گیا تھا اسی طرح اپنے نظریہ اور بصیرت سے اس جہاں کی مٹی کو اکسیر کردو‘‘۔
پور آزر کعبہ را تعمیر کرد
از نگاہی خاک را اکسیر کرد
مغربی تہذیب کی یلغار کی ایک حساس چوکی جہاں ہمیں کمال احتیاط سے گزرنا ہے وہ ہے اس کے اقتصادی نظام جو افلاس فروغ، استحصال بنیاد اور ظلم پرور ہے جس سے زمینی وسائل کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود بھکمری کے پے درپے حملے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے شعوری اقدامات کے ذریعہ مالی نظام کا متبادل مستقل پیش کرتے رہنا ہوگا۔ ہمیں عالمی تقاضوں کو مطلوب زندگی کے پیش نظر امکانی ذمہ داریاں اٹھاتے ہوئے اس کشمکش سے آزاد ہونا چاہیے جو سمت کی تلاش وتعین میں ہم نے صدیاں برباد کر دیں۔ کیوں کہ دولت کی تنظیم سے جڑی زندگی ہی اس عصر کے نمردو کے نمک خوردگی کی بات ہے۔ اس کا نمک کھا کر ہم ہمیشہ تذبذب میں زندگیاں ضیاع کریں گے۔ اس کے سبب مغربی وسائل، تہذیب کی ذہنی غلامی سے اعلان برات نا ممکن ہے۔
دریں بتخانہ اولادِ براہیم
نمک پروردۂ نمرود تاچند
دولت کی اطراف بنایا ہوا اقتصادی نظام جب تک ان کی ترقیوں کا نور بن کر ہمیں نظر آئے گا وہ دراصل ایک نیا شعلہ جوالا ہے جس میں کبھی سیدنا اہیمؑ کو ڈالا گیا تھا۔ آج دانش حاضر کے شعلوں کو دانش ربانی کے نور سے ٹھنڈا کرنا ہوگا۔ اس آزمائش کو اقبال نے خود اپنے لیے بھی محسوس کیا تھا۔ ابراہیمؑ کے نقش قدم پر چل کر کئی سو شخصیات نے توحید کی تائید میں خود کو شعلوں سے گزارا ہے تاکہ ’’محمدﷺ‘‘ کی شمع جل سکے۔ اب یہ شمع ہی بزم عالم کے نور کی ضمانت ہے۔
شعلہ ہائے او صد ابراہیم سوخت
تا چراغ یک محمدؐ برفروخت
اسی آگ کا ایک دہانہ فکری دانش کا ہے جس میں اسلامی فکر کو جھلسایا جا رہا ہے اور اس آگ سے گزر کر ہی اسلامی ذہن کندن بن سکتا ہے۔ اس آگ سے ہر جاگتے ہوئے ذہن کو گزرنا ہے۔
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
اس سے آگے بڑھ کر اقبال کہتے ہیں؎
جز تو اے دانائے اسرار فرنگ
کس نکوننشست درنار فرنگ
باش مانند خلیل اللہ مست
ہر کہن بتخانہ را باید شکست
یعنی تو فرنگ کا رمز شناس ہے اور دیار فرنگ کی پناہوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ اب تو خلیل اللہ کی طرح شراب توحید سے مست ہوجا اور ہر بتِ پارینہ کو شکست دے ؎ آزر کا پیشہ خارا تراشی
کار خلیلاں خارا گدازی
اب انبیا کے فکر کی توسیع کی تمنا میں جینے والے یہ دیکھیں کہ کبھی کیچڑ ومٹی کے بت تھے آج عرفانِ رب کی راہ میں چلنے والوں کے ذہن کا بت خانہ کیسا ہے۔ نئے اذہان کو نئی تہذیب نے جو نور دیا ہے اس میں کونسی آگ جھلس رہی ہے اور اس کو کس طرح ربانی حکمت سے ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔
قرآن کی ایات بینات نے ابرہیمؑ کو اولوالعزم پیغمبر کہا۔ جہان بھر کی قیادت کا منصب دیا جس کو قرآن کبھی خلیل، صدیق، صالح، خیر البریہ، عالمی نبوت اور کبھی جنتوں کی شہریت کی بشارت دیتا ہے۔ یہ مہنت کے گھر کا پروردہ، ستاروں کی انجمن میں خدا ٹٹولنے والوں کو خدا سے ملا دیتا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی تردد نہیں ہے۔ ہمارا کام ربانی شریعت کو حسن وتوازن کی اعلی ترین تعبیر دے کر عالمی قیادت کے لیے ماحول کو استوار کرنا ہے۔ یہ تب ممکن ہوگا جب وہ متاع ایمان ہمارے ساتھ ہوگی جو ابرہیمؑ کی شناخت تھی۔
ازشریعت احسن تقویم شو
وارث ایمان ابرھیم شو
کارنبوت کی ایک اساسی پہچان جو قیادت کو مطلوب ہے وہ جمال رنگ اظہار، دل کو چھونے والی دلیل، وہ زبان جو دلوں کی دنیا میں روح کے مسکن تک اس پیغام کو پہنچائے۔ جس کا ہنر سحر آفریں تاثر رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بڑا کام اور کالے کوسوں کا سفر لگتا ہے لیکن اخلاص اور ہمت کے نتیجہ میں یہ مہم آسان ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ سادہ زبان میں ابرہیمؑ نے اپنے والد سے، پھر زمانے سے اور آخر کار ظالم حکمران کے سامنے سوالات رکھ دیے۔ وہ بات کہی جو پورے زمانے سے الگ تھی۔ جو شرک سے بیزاری کا اعلان تھا۔ وہ کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن ایک قدم بندے کا اٹھا تو رب نے زمانے سمیٹ دیے اور آج بھی ابرہیمؑ کی سیاست ایک اہم انسانی ضرورت ہے۔ اگر ہم مدرسوں یا جدید تعلیم اداروں کے رسمی منتر پڑھ کے اٹھیں گے تو دلوں کو جیتنے والی ساحری کا ہنر ساتھ نہ ہو گا۔ اس کے لیے افصح العرب وعجم کے نقوش پا کی چاندنی تلاش کرنی ہو گی۔ جو اظہار میں اور معاہدات میں تھی۔ ورنہ اقبال کا شکوہ واجب نظر آئے گا؎
نہ سلیقہ مجھے میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری تو قتیل شیوۂ آزری
ایک زوایہ اور بھی کہ؎
یہ بتانِ عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراشِ آزرانہ
جگ جیتنے کا ہنر رد عمل سے نہیں اقدامات ومہمات سے آتا ہے۔ آج ہماری عالمی توانیاں دنیا کے سامنے ایک مشکوک گروہ کی طرح صفائی پیش کرتے، خود کو بے گناہ ثابت کرتے ہوئے گز رہی ہے۔ یہ سہمے ہوئے مرعوب ذہنوں کی شناخت ہے۔ اسلامی بستیوں میں ان گنت وہ ردی مال بھی ہے جو اسلامی اور عالمی قیادت کے تصور کو فسانوں کا حصہ سمجھتاہے۔ یہ تاریخ فراموش ذہن ہمیں اپنے خوابوں سے دستبردار ہونے کی پٹی پڑھاتا ہے۔ ان کی بصیرت خوف کے سبب بہکے ہوئے آئینہ کی طرح ہو چکی ہے جس میں کوئی حسین منظر اپنے جمال آفریں پیکر کے ساتھ نہیں ابھرتا۔
زمانے کے سیاسی کرتب بازوں کے رنگ دیکھیں کہ کیسے وہ مسائل کو وسائل سے جوڑ کر حل کرنے کوشش کرتے ہیں۔ پھر ہم کیوں سبکدوش رہیں۔ فرار کے مشورہ پامال ذہنوں کا مردہ خیال ہوتا ہے۔ جب کہ زمانے کے بدلتے ہوئے رنگ میں قوموں کی شکست و ریخت، سمجھوتے اور مصلحتیں، امن ودہشت کے فسانوں سے جڑے ملکوں اور قوموں کو نئے بہانوں سے قریب لانا اور قربت میں اٹے ملکوں میں فاصلے بنانا، یہ سب عالم سیاسی بازی گروں کے تماشے ہیں۔ اگر عکس وآزار کے فسانوں سے امت مسلمہ قیادت کے اعزاز سے پیچھے ہٹ جائے تو ڈر ہے کہ امت پر عذابوں کے سلسلے دیر تک جاری رہیں گے۔ اس عصر کے نمرود اور اس کی آگ سے نجات وہی انبیائی بصیرت اور رجحان ساز طرز فکر سے ممکن ہے جو زمانوں پر راج کرسکتی ہے۔
اس نئی آگ کا اقوامِ کہن ایندھن ہے
ملتِ ختم رسلؐ شعلہ بہ پیراہن ہے
مٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہے
اس کی اذانوں سے فاش سرِکلیم و خلیل
دنیا کے منظر نامہ پر مکار کردار سے زیادہ صالح اقدار کے تقاضوں کو نبھانے والوں کو بار بار موقع ملتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اپنے اختیارات کی زمینوں اور زمانوں پر عدل کو رواج دینا ہوگا۔ یہ زمانے کی امامت کا پہلا قدم ہے۔ ہماری دنیا کی ہر کوشش دور تک جائے گی۔ اجتماعی کردار سازی کی ہر مہم کو لازمی اختیار کرنا ہوگا۔ یہ صرف اسکول کی بچکانی ضرورت نہیں۔ ہمارے معاشرے کی بے شخصیت آبادیاں عالمی سیادت نبھانے کی ہماری راہ میں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ مثالی معاشرہ اپنی خوشبو دور تک لے جاتا ہے۔ محدود رہبانیت اور بندگی میں فرار کے فلسفوں نے ہم سے اختیارات عالم کی تمنا بھلا دی۔ کوئی مسلہ لمحہ موجود میں نیا نہیں۔ ہر الجھن کا حل براہیمیؑ سنت کی زمانی تعبیر سیرتِ سرورِ دوعالم ﷺ کے اسوۃ حسنہ میں موجود ہے۔ میدان عمل میں اب زمانہ اپنے تمام حربوں کے ساتھ آچکا ہے۔ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے نبی مہمات پسند تھے تو پھر یہ فہم بھی ضروری ہے کہ ہمیں سیادت اور عالمی خدمت کے لیے موزوں بننا پڑے گا۔
آگ ہے اولادِ ابراھیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے
[email protected]
***

جگ جیتنے کا ہنر رد عمل سے نہیں اقدامات ومہمات سے آتا ہے۔ آج ہماری عالمی توانیاں دنیا کے سامنے ایک مشکوک گروہ کی طرح صفائی پیش کرتے، خود کو بے گناہ ثابت کرتے ہوئے گز رہی ہیں۔ یہ سہمے ہوئے مرعوب ذہنوں کی شناخت ہے۔ اسلامی بستیوں میں ان گنت وہ ردی مال بھی ہے جو اسلامی اور عالمی قیادت کے تصور کو فسانوں کا حصہ سمجھتاہے۔ یہ تاریخ فراموش ذہن ہمیں اپنے خوابوں سے دستبردار ہونے کی پٹی پڑھاتا ہے۔ ان کی بصیرت خوف کے سبب بہکے ہوئے آئینہ کی طرح ہو چکی ہے جس میں کوئی حسین منظر اپنے جمال آفریں پیکر کے ساتھ نہیں ابھرتا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 تا 31 جولائی 2021