کورونا کے مسئلے میں ناکام حکومت کو متنازع شہریت قانون کاسہارا

سی اے اے نہ سہی شہریت قانون 1955 کانفاذ۔وزارت داخلہ کے تازہ نوٹیفکیشن مذہبی نفرت وعداوت کاپیش خیمہ۔۔!

(دعوت نیوز ڈیسک)

 

شاید 2022 میں ہونے والے اتر پردیش انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ کم از کم بی جے پی نے تو انتخابی جنگ کا بگل بجا ہی دیا ہے۔ غیر مسلم مہاجروں کو شہریت دینے کے معاملے میں وزارت داخلہ نے تازہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پھر سے متنازع شہریت ترمیمی قانون (CAA)کا جن بوتل سے باہر نکلے گا، پھر معاشرے میں مذہب کی سیاست کا کھیل شروع ہو گا جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن اتر پردیش کے خطے کے لیے نہیں ہے لیکن مذہب کی بنیاد پر کسی ایک علاقے کے مسئلے کا اثر پورے ملک پر ہوتا ہے۔ انہدامِ بابری مسجد اور رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے اسمبلی الیکشن سے پہلے کاشی اور متھرا کا بھی مسئلہ اٹھایا جا سکتا ہے جو مذہبی نفرت وعداوت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اگرچہ متازع شہریت ترمیمی قانون 2019 پر فی الحال عمل درآمد نہیں ہوا ہے لیکن 28 مئی 2021 کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن (gazette notification)کے مطابق گجرات، چھتیس گڑھ، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب کے تیرہ اضلاع میں رہ رہے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلم مہاجرین (ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی) آن لائن بھارت کی شہریت کے لیے فارم پر کر سکتے ہیں۔ جن اضلاع کو یہ حق دیا گیا ہے ان میں گجرات کے موربی، راجکوٹ، پٹن اور وڈودرا، چھتیس گڑھ کے دُرگ اور بلودا بازار، راجستھان کے جالور، اودے پور، پالی اور باڑ میر، ہریانہ کے فرید آباد اور پنجاب کے جالندھر شامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے یہ قدم 1955 کے سیکشن 16 کے تحت پائے جانے والے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قانون کی دفعہ 5 کے تحت اٹھایا ہے۔ واضح ہو کہ 1955 کے قانون کے مطابق شہریت اختیار کر لینے، آبا واجداد کے بھارتی ہونے، بذریعہ رجسٹریشن، بھارت میں پیدائش ہونے یا اگر بھارت کسی علاقے کو اپنی حدود میں شامل کر لیتا ہے تو اس خطے کے شہری بھارتی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔
بہر حال وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آن لائن بھرے جانے والی درخواستوں کی جانچ کلکٹر یا داخلہ سکریٹری کریں گے جس کے بعد وہ کیس کے مطابق ضلعی یاریاستی سطح پر اپلیکیشن اور رپورٹس کو آن لائن پورٹل پر مرکزی سرکار کے لیے مہیا کرائیں گے۔
غور طلب ہے کہ 2019 میں جب متنازع شہریت ترمیمی قانون آیا تھا تو ملک کے مختلف ریاستوں میں زبردست احتجاج ہوا تھا اور انہیں احتجاجی مظاہروں کے بیچ 2020 کے شروعات میں شمال مشرقی دلی فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے تھے۔سی اے اے کے مطابق بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں ظلم وتشدد کے شکار ایسی اقلیتوں (ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی) کو شہریت دی جائے گی جو 31 دسمبر 2014 تک بھارت آ گئے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ این آر سی کے تحت آسام کی حتمی فہرست سے 19 لاکھ افراد کا اخراج ہوا ہے جس میں تقریباً پانچ لاکھ بنگالی مسلمان ہیں۔ اگر فہرست سے نکالے گئے باقی تمام گروہوں، بشمول بعض قبائلی افراد کی شناخت بطور ہندو یا سی اے اے کے تحت تحفظ حاصل کرنے والے مذہبی گروہ کے طور پر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں مسلمان ہی شہریت حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گے اور اس طرح سے مذہبی بنیادوں پر شہریت کے حصول واخراج کا یہ سلسلہ نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر فسادات کو جنم دے سکتا ہے۔
اس حوالے سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے قومی سطح پر یکم جون 2021 کو احتجاج کیا۔ وہیں ایس ڈی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے حکومت کے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے جہاں تمام سرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے یہاں تک کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ملتوی یا منسوخ کر دیے گئے ہیں ایسے میں غیر ملکی مہاجرین کو شہریت دینا سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ وہ بھی جو 1955 اور 2009 شہریت قانون متازعہ شہریت ترمیمی قانون 2019 کے تحت نہیں آتا ہے۔ حکومت کی جانب سے شہریت کے لیے اوپن اپلیکیشن دینے کی دعوت دینے کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی ہے۔ بلکہ عام طور پر مہاجرین خود درخواست دیتے ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ انہیں شہریت دے۔ آخر حکومت اتنی جلد بازی میں کیوں ہے؟دراصل مختلف محاذوں پر حکومت کی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کا یہ ایک ذریعہ ہے۔
کورونا وائرس کے اس دور میں مرکزی حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے اور مرکزی وزیر داخلہ کا کردار بھی مبہم رہا ہے، وہ وبا سے بے پروا مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں انتخابی تشہیر میں سرگرم تھے۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 6 جون تا 12 جون 2021