کریئرکارنر

آئی آئی ٹیز میں فیکلٹیز کی بھرتی کا عمل تیز

ایس سی ، ایس ٹی ، اوبی سی طبقات کے لیے محفوظ آسامیوں کے لیے درخواستیں طلب
طویل عرصہ سے فیکلٹی تقررات میں تحفظات کی مزاحمت کرنے کے بعد کئی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئ ٹیز) اب سرگرمی سے تاریخی طور پر نظر انداز کردہ درج فہرست طبقات ، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات سے اساتذہ کی سرگرمی سے بھرتی کررہے ہیں۔ مرکزی قانون کے مطابق ان اداروں کو فیکلٹی کی آسامیوں میں او بی سی زمرہ سے 27فیصد، ایس سی زمرہ سے 15فیصد، اور ایس ٹی زمرہ سے 7.5فیصد تحفظات کو روبہ عمل لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 23اگست کو وزارت تعلیم نے تمام ادارہ جات جیسے آئی آئی ٹیز ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایمس) نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ٹکنالوجی (این آئی ٹیز) اور سنٹرل یونیورسٹیوں کو ستمبر 2022تک تمام مخلوعہ آسامیوں کو پر کرنے بالخصوص ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی زمروں سے بھرتیاں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت نے آسامیوں کو پر کرنے کے تعلق سے کیے گئے اقدامات پر ایک ماہانہ رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ادارہ جات سرگرمی سے بھرتیوں کے لیے کوشاں ہیں۔ آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ٹی کھڑگ پور ، آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ٹی (بنارس ہندو یونیوسٹی)، اور آئی آئی ٹی روپار نے ایس سی ، ایس ٹی، او بی سی ، ای ڈبلیو ایس (معاشی طور پر کمزور طبقات) اور معذور امیدواروں کے لیے محفوظ آسامیوں کو پر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کرتے ہوئے اشتہارات جاری کیے ہیں۔ یہ ادارے عام طور پر متعلقہ برانچ میں فرسٹ کلاس ڈگری کے حامل ایسے پی ایچ ڈی امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں جو نہایت اچھے تعلیمی پس منظر کے حامل رہے ہوں۔ اشتہارات کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسرس کے لیے تدریس، تحقیق، یا انڈسٹری میں کم سے کم تین سال کا تجربہ قابل ترجیح ہے۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 26 ستمبر تا 02 اکتوبر 2021