کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بھی دھمکیوں کی زبان بولنے لگے

فرقہ وارنہ کے واقعات سے امن وامان کو خطرہ اکثریتی طبقے کی زہر افشانیاں شمالی ہند کے بعد اب جنوب میں بھی؟

سید احمد سالک ندوی بھٹکلی

پچھلے کچھ برسوں سے اس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نفرت کی جو خلیج پیدا کر دی گئی ہے وہ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے لوگ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہیں اس لیے بھی اس مہم کو شہ مل رہی ہے۔ ملک کی معیشت، تعلیم اور تہذیب پر باہمی منافرت کے کتنے بھیانک اثرات مرتب ہو رہے ہیں یہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور آسام سے ایسی خبریں تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں جہاں عدم برادشت کی فضا پورے شباب پر ہے۔
اب جنوبی ہند کی فضا میں گھولا جا رہا ہے زہر
بی جے پی کی زیر اقتدار جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں بھی ادھر کچھ عرصہ سے اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے جہاں اخلاقی پولیس گِری کے نام پر بھگوائیوں کی جانب سے پر امن شہریوں پر زور و زبردستی کی خبریں مسلسل موصول ہور ہی ہیں۔ ان لوگوں کی جانب سے مار پیٹ اور ہراسانی کے بڑھتے واقعات کے بارے میں جب ریاستی وزیر اعلیٰ بسو راج بومئی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جو جواب دیا اسے سن کر افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہور ہا ہے وہ عمل کا رد عمل ہے‘ ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کو اپنے عقائد وجذبات پیارے ہوتے ہیں، اگر کوئی جذبات کو ٹھیس پہنچاتاہے تو اس طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا اگر وزیر اعلیٰ کرناٹک دو ہفتہ قبل ضلع اڈپی کے علاقہ گنگولی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف جو ہتک امیز نعرے بازی کی گئی تھی اس کو ’جذبات کو ٹھیس‘ پہنچانے والا اقدام بتا کر مجرمین کے خلاف سخت قدم اٹھاتے؟ یہ سوال اس لیے بھی پوچھا جائے گا کیونکہ یہاں بھی ہر مذہب اور ہر مسلک کے لوگوں کو اپنا وقار اور اپنا عقیدہ محبوب ہے۔
تشدد کے واقعات اور ایک وزیر کی دھمکی
گزشتہ دنوں کرناٹک کے ضلع باگل کوٹ اور شرال کوپا میں سخت گیر ہندوؤں کے ساتھ کچھ مسلم نوجوانوں کی مارپیٹ اور ہاتھا پائی کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے جنہیں بعد میں فوری طور پر پولیس نے قابو میں کر لیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ضلع باگل کوٹ کے گاؤں عالم پیٹ میں ریان نامی نویں جماعت کے ایک طالب علم کو دوسرے مذہب کے ساتھیوں نے ٹوپی پہن کر ٹیوشن کلاس میں آنے پر ہراساں کیا جس کے بعد ان کے درمیان مارپیٹ ہوئی جس میں محمد 18 سال، سمیر 20 سال اور ساحل 19 سال سمیت دیگر دو افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے سبھی ملزمین کو گرفتار کرنے کا وعدہ کیا۔ دوسری طرف شرال کوپا میں بھی وہاٹس ایپ کے اسٹیٹس پر متنازعہ پوسٹ پائے جانے کے بعد ایک ہندو نوجوان کی پٹائی کی گئی تھی۔
جب یہ دو واقعات سامنے آئے تو میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پنچایت راج کے وزیر کے ایس ایشورپا نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ ’ہندوؤں کے معاملے میں آئیں گے تو بخشے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے باگل کوٹ اور شرال کوپا کے معاملات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں معاملات میں کارروائی ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی ضلعی، ریاستی اور قومی سطح پر اگر کوئی ہندؤوں کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔
بڑ بولے وزرا کی توجہ اس پر کیوں نہیں۔۔؟
سنیچر 25 ستمبر کو گنگولی میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا۔ مقامی مسلمانوں کے بقول علاقہ کے ایک شر پسند نے دس سال پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو دس سال بعد اچانک کس کے ہاتھ لگی اور کس نے کس مقصد کے تحت اسے وائرل کیا یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ کرناٹک میں گئو کشی پر قانوناً پابندی ہے۔ اس واقعہ میں گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیم کے لیڈر کی شکایت کے بعد پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والے چار لوگوں کو گرفتار کیا۔ چار دنوں تک جیل میں رہنے کے بعد وہ جب ضمانت پر رہا ہوئے تو ان کی رہائی سے ناراض ہندو جاگرن ویدیکے کے لیڈروں نے گنگولی میں بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو شدید طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر اہانت آمیز الفاظ اور جذبات بھڑکانے والے نعرے لگائے گئے۔ افسوس اس پر بھی ہے کہ یہ سب کچھ پولیس بلکہ ضلع کے ایس پی کی موجودگی میں ہوا لیکن وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ گنگولی کے مسلمانوں نے اس واقعہ پر کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمین کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس نے دونوں طرف سے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا۔
اس واقعہ پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر ’رد عمل‘ کی دھمکی دینے والے وزیر اعلیٰ اور ’بخشے نہیں جائیں گے‘ کی دھمکی دینے والے پنچایت راج کے وزیر کی زبانیں کیوں گنگ ہو گئی تھیں؟ کیا یہ کہا جائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ان سب کی مرضی شامل ہے؟ اگر نہیں تو پھر حکام کی اس خاموشی کو کیا نام دیا جائے؟
بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر دانشوروں کا رد عمل
وزیر اعلیٰ کے ’رد عمل‘ والے بیان پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی صدر ایڈووکیٹ طاہر حسین نے ہفت روزہ دعوت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اپنے بیان سے فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستوری عہدے پر فائز شخص سے ایسے گھٹیا بیان کی امید نہیں تھی۔ ویلفیئر پارٹی نے وزیر اعلیٰ سے اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ روز منگلورو میں منعقدہ بجرنگ دل کے پروگرام میں ترشول تقسیم کرنے اور پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے کے معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈووکیٹ طاہر حسین نے واضح کیا کہ پولیس کمشنر نے ترشول تقسیم پروگرام کے سلسلے میں یہ کہہ کر پلّہ جھاڑ لیا کہ اگر معلوم ہوا کہ ترشول تقسیم کرنا جرم ہے تو ان پر کارروائی کی جائے گی۔ ایڈووکیٹ طاہر حسین نے الزام لگایا کہ پولیس کو بھی نہیں معلوم کہ کس پر کارروائی کرنی ہے اور کس پر نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری مَشینری کرناٹک کو اتر پردیش بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیوں کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلانا اور ان میں خوف پیدا کرنا ہے۔
معروف دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار، سابق امیر حلقہ جماعت اسلامی کرناٹک اطہر اللہ شریف نے ہفت روہ دعوت کو بتایا کہ ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اقتدار کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان فرقہ پرستوں کو قانون اور دستور سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جو طاقتیں مرکز میں اقتدار پر ہیں ان کے اقدامات سے ریاستی حکومتوں کو شہ مل رہی ہے اور یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہی ہیں۔
ملت کے کرنے کے کام
ایسے حالات میں ایک طرف جہاں حکومت فرقہ پرستوں کی پشت پناہی کر رہی ہو اور دوسری طرف اکثریتی طبقہ اپنی کثرت تعداد کے زعم میں مبتلا ہو تو ملت کے افراد کو فوراً محاذ سنبھال لینا چاہیے، قبل اس کے کہ اس چنگاری کو نفرت کی ہوائیں لے اڑیں اور ملک ومعاشرت کو بھسم کر ڈالیں امن وانصاف کے علمبرداروں کو آگے بڑھ کر مینا اٹھا لینا چاہیے۔ ہم اپنے خیرِ امت ہونے کے کام کو جس قدر خوبصورت انداز میں انجام دیں گے اسی قدر نفرتوں کے سیاہ بادل چھٹتے جائیں گے۔ گو کہ پورے ملک کے حالات ہی پریشان کن ہیں لیکن مایوس کن نہیں کیونکہ انبیائی مشن کو لے کر چلنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوامی سطح پر مشترکہ پروگراموں کا دائرہ وسیع کریں تاکہ اسلام کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ حُسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کے کام ان حالات میں بڑے کار گر ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاسی سطح پر ریاست کرناٹک میں ملّی درد رکھنے والی سیاسی پارٹی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا پوری ریاست میں سیکولر طبقات کے ساتھ مل کر بیداری پروگرام چلا رہی ہے، اللہ نے چاہا تو اس کے بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
غیر دانشمندی کا مظاہرہ کرنا اور جذبات کی رو میں بہہ جانا کسی بھی حال میں مناسب نہیں ہے۔ مسلمانوں میں بعض لوگ جو ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے سخت گیر موقف رکھتے ہیں انہیں دور اندیشی سے کام لینا چاہیے اور ملکی قانون اور دستوری حدود میں رہ کر ہی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ امن کے پیامبر ہونے کا امت مسلمہ کا دعویٰ سچ ثابت ہو سکے اور امن کے دشمنوں کو بگاڑ کی راہ نہ مل سکے۔

 

***

 ایسے حالات میں ایک طرف جہاں حکومت فرقہ پرستوں کی پشت پناہی کر رہی ہو اور دوسری طرف اکثریتی طبقہ اپنی کثرت تعداد کے زعم میں مبتلا ہو تو ملت کے افراد کو فوراً محاذ سنبھال لینا چاہیے، قبل اس کے کہ اس چنگاری کو نفرت کی ہوائیں لے اڑیں اور ملک ومعاشرت کو بھسم کر ڈالیں امن وانصاف کے علمبرداروں کو آگے بڑھ کر مینا اٹھا لینا چاہیے۔ ہم اپنے خیرِ امت ہونے کے کام کو جس قدر خوبصورت انداز میں انجام دیں گے اسی قدر نفرتوں کے سیاہ بادل چھٹتے جائیں گے۔ گو کہ پورے ملک کے حالات ہی پریشان کن ہیں لیکن مایوس کن نہیں کیونکہ انبیائی مشن کو لے کر چلنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوامی سطح پر مشترکہ پروگراموں کا دائرہ وسیع کریں تاکہ اسلام کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 24 تا 30 اکتوبر 2021