کانگریس نے آسام این آر سی کوآرڈینیٹر کے ذریعے حتمی فہرست سے ’’نا اہل افراد‘‘ کے نام حذف کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ کی توہین قرار دیا

گوہاٹی، اکتوبر 17: آسام میں حزب اختلاف کانگریس نے کہا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے ریاستی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو سرما کی طرف سے تمام ضلعی مجسٹریٹس (ڈی ایم) کو جاری کردہ ہدایت سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے، جس میں انھوں نے غلط طور پر این آر سی فہرست میں شامل افراد کے ناموں کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔

کانگریس کے ایم ایل اے اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر دیبابرتا ساکیہ نے جمعہ کو کہا کہ این آر سی حکام نے سپریم کورٹ سے ایسی ہدایت جاری کرنے کی اجازت نہیں لی ہے۔ 1951 کے این آر سی کو عدالت عظمی کی براہ راست نگرانی میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’آسام کے لوگوں کی ایک خواہش اس وقت پوری ہوئی تھی جب سپریم کورٹ کی نگرانی میں این آر سی کو اپ ڈیٹ کیا گیا تھا اور اس طرح مرکزی اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی این آر سی کی طرف ذمہ دار ہیں۔ تاہم یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ موجودہ این آر سی اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے مختلف ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’’مشکوک ووٹرز‘‘ کی فہرست تیار کریں اور این آر سی فہرست میں شامل نااہل افراد کے نام فہرست سے حذ کر دیں۔ اس طرح کی ہدایت سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے کیونکہ این آر سی اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے ہدایت جاری کرنے کے لیے عدالت سے اجازت نہیں لی ہے۔‘‘

ساکیہ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے حتمی این آر سی کی فہرست میں نئے ناموں کو حذف کرنے یا شامل کرنے سے متعلق کوئی حکم منظور نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال 31 اگست کو شائع ہونے والی حتمی این آر سی فہرست میں 19 لاکھ سے زیادہ افراد کے نام شامل نہیں ہیں۔