مساوات اور سماجی انصاف دستور ہند کی اصل روح

سی اے اے، این آ رسی آزادی کے بعد سماج میں زہر پھیلانے والے سب سے بڑے اقدام

عائشہ سلطانہ، کھمم ، تلنگانہ

دستوری اقدار اور کلچر کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری۔ فاشسٹ طاقتوں کا جراتمندی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت
امتیازات کا خاتمہ اور سماج کے ہر فرد کے ساتھ برابری والا سلوک دستور ہند کا اصل جوہر ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر نے دستور سازی میں بنیادی طور پر اسی تصور کو پیش نظر رکھا تھا۔ بھارت میں اقلیتوں سمیت تمام طبقات کو مساوی حقوق اور تمام شعبوں میں آگے بڑھنے کا حق دینے کے لیے فاشست طاقتوں کو ان کے عزائم سے باز رکھنا ضروری ہے۔ یہ پیام پروفیسر گالی ونود ڈین۔ فیکلٹی یونیورسٹی آف لا عثمانیہ و تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔ پروفیسر جی ونود کئی عالمی و قومی ایوارڈ یافتہ شخصیت ہیں جو دستور اور امبیڈکر کے نظریات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ 26جنوری، یوم جمہوریہ کی مناسبت سے قارئین دعوت کی خدمت میں ان کا انٹرویو پیش ہے۔
ہر ملک میں دستور کی ضرورت کیوں ہے اور اس کا اصل مقصد کیا ہے؟
دستور کا مقصد معاشرہ کو سماجی ، معاشی اور سیاسی طور پر تبدیل کرنا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ امریکی معاشرہ کو دیکھیں تو وہاں دو طبقات سیاہ فاموں اور سفید فاموں میں نسلی امتیاز پایا جاتا ہے۔ اس امتیاز کو روکنے کے لیے دستور کی ضرورت پیش آتی ہے۔ نہ صرف نسلی امتیاز بلکہ سماجی، معاشی ، سیاسی ، صنفی ، علاقائی، لسانی امتیاز اور اس طرح کے دیگر امتیازات کو بھی روکنا ہوتاہے ۔ سماج کے ہر طبقے میں لازماً اصلاح حال کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی کسی ملک کے دستور کا حتمی مقصد ہوتا ہے۔
آپ خاص طور پر دستور ہند کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے، آئینی اقدار اوران کی اہمیت کیا ہے؟
گرین ولے آسٹن امریکہ کے مشہور قانون دانوں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے امریکی دستور کے بارے میں لکھا ہے اور دستور ہند کی بھی تشریح کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’دستور کا حتمی مقصد محض ایک قانونی دستاویز نہیں ہے۔ یہ سماجی ، معاشی اور سیاسی انقلاب کے لیے بھی ایک دستاویز ہے۔ جب حکمراں آئینی اقدار کو ٹھیک طور پر لاگو کرسکیں،اسی وقت ایک سماجی انقلاب آسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماجی انصاف کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ایک نابرابری اور اکثریت پسند سماج کو ایک مساوی سماج میں تبدیل کیا جائے۔ یہاں بھارت میں خاص طور پر سماج ورنا اور ذات پات کے نظام پر مبنی ہے جو تمام نابرابریوں کی اصل وجہ ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر چاہتے تھے کہ دستور کے اصولوں بالخصوص مساوات کے حق، دفعہ (14تا18) کی بنیاد پر سماج میں مساوات لائی جائیں۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قانون اور اس کے تحفظ کے معاملے میں سبھی مساوی ہیں اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ دفعہ 15 کے مطابق ذات ، طبقہ ، مذہب، نسل اور صنف کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ دفعہ 16 مساوی موقع کی تشریح کرتا ہے۔ دفعہ 17 چھوت چھات کے خاتمہ اور دفعہ 18القابات کے خاتمہ سے متعلق ہے۔ اس طرح یہ تمام دفعات 14تا18 مساوات کے حق کو فروغ دیتی ہیں۔ لہٰذا مساوات کا حق دستور کا جوہر اور دستور کی فنی خوبی ہے۔ مثال کے طور پر 18سال کی عمر میں ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے۔ یہ ایک سیاسی حق بھی ہے۔ اسی لیے ہر ایک کے لیے سیاسی حق مساوی ہوگا ، ایک شخص کا ووٹ ایک اور اس کی قدر بھی ایک ہی ہوگی چاہے وہ نامی گرامی شخص ہو یا کوئی رکشہ راں، قطع نظر اس کے کہ وہ اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتا ہے یا نچلی ذات سے۔
محض سیاسی انقلاب کافی نہیں ہے۔ جب تک سماجی اور معاشی برابری نہیں ہوگی۔ ہم ہندوستانی سماج کو بدل نہیں سکتے۔ مساوات کو تمام پہلووں سے ہر طرح کی مساوات کا سبب بننا چاہیے۔ یہی اصول دستور کے دیباچہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ’’ہم بھارت کے لوگ‘‘ میں ہر شخص شامل ہے۔ اس ’ہم‘ میں دلت، اقلیتیں، خواتین، اعلیٰ ذاتیں، بشمول تمام ذاتیں ، مذاہب اور اصناف شامل ہیں۔ یہ سب مساوی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت ایک فلاحی ریاست، سیکولر ، مقتدر جمہوری اور عوامی جمہوریہ ہے۔ بھارت کو ایک فلاحی مملکت میں تبدیل کرنے کا جامع خیال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان مساوات کو فروغ دیا جائے۔ سیکولر ریاست کا مطلب علاقہ میں مساوات کو فروغ دینا ہے۔ تمام علاقوں کو مساوی طور پر دیکھا جائے، انہیں دستور ہند کی رو سے احترام حاصل ہے۔ جمہوری ریاست اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہاں کسی کو بھی دبایا اور کچلا نہیں جائے گا ۔
یہی ’’عوام کے ذریعہ عوام کے لیے اور عوام کی حکومت ‘‘ کی تشریح ہے جو جمہوریت کا جوہر ہے۔
مقتدر ریاست کا مطلب نہ صرف سیاسی مقتدریت ہے بلکہ معاشی، سماجی ، سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ تعلیم و روزگار حتیٰ کہ نفسیاتی خود مختاری بھی اس کی تعریف میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی خود مختاری ہی ایک مقتدر ریاست کا سبب بنتی ہے۔ ہر فرد کو اپنے آپ کو منوانے اور استحکام پانے کے لیے با اختیار ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوامی جمہوریہ کی بنیاد، عوام کی رائے پر ہوتی ہے۔ یہ ووٹنگ کے ذریعہ بالواسطہ جمہوریت ہے۔ حکومت کی نمائندگی ایوان عام، پارلیمنٹ، راجیہ سبھا اور براہ راست لوک سبھا اور قانون ساز ادارے کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نمائندہ جمہوریت ہے۔ جمہوریت، جمہوریت نہیں ہوگی اگر مسائل پر غوروخوض کے لیے نمائندگی نہ ہو۔ دستور نے مساوی موقف اور مساوی وقار کا بھی وعدہ کیا ہے۔ افراد اور ریاست کی جامع تبدیلی ہمارے دستور کی ایک اہم خصوصیت ہے تاکہ بھائی چارہ کے فروغ کے ذریعہ مساوات کی ترویج ہو۔ بھائی چارہ میں ذات پات سے عاری سماج شامل ہے۔ بھائی چارہ میں ملک کی سلامتی کے فروغ کے لیے قوم کے درمیان اخوّت شامل ہے۔ اگر ہم ایک منصفانہ ملک چاہتے ہیں تو کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب بھارت میں کسی قسم کے امتیاز کے بغیر تبدیلی آئے اور دستور ہند یعنی آزادی، مساوات، ہم آہنگی اور انصاف کے قیمتی اصولوں پر ایک مضبوط قوم بنے۔
دستور ہند کی ساری دنیا میں انفرادیت ہے جو واحد ایسا دستور ہے جو اپنے شہریوں کو آئینی اقدار عطا کرتا ہے۔ لیکن کیا آپ نہیں سوچتے کہ بھارت کے آئینی اقدار آج دو راہے پر ہیں؟
جی ہاں مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ آج بھارت کے آئینی اقدار دو راہے پر ہیں۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کہتے ہیں ’’ دستور ملک کا اعلیٰ قانون ہوتا ہے، فلاحی ریاست ، عام آدمی کے لیے ہوتی ہے لیکن آج فلاحی ریاست ایک کارپوریٹ ویلفیر اسٹیٹ بن گئی ہے۔ حکومت ہند تمام فلاحی اسکیمات کو عام افراد کے لیے نہیں بلکہ کارپوریٹس کے فائدے کے لیے فروغ دے رہی ہے۔ مثال کے طور پر متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی آروگیا شری اسکیم کا نظریہ یہ ہے کہ عام آدمی کے فائدے کے لیے ایک نظام صحت متعارف ہو لیکن بالآخر یہ کارپوریٹس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور یہی حال دیگر بہت ساری اسکیمات کا ہے۔ فلاحی ریاست کوچاہیے کہ وہ قابل بقا ترقی کو فروغ دے۔ آج کارپوریٹس حکومت کررہے ہیں وہی اثر انداز ہورہے ہیں اور مکمل صحت پالیسی، تعلیمی پالیسی اور معاشی پالیسی پر اثر ڈال رہے ہیں۔ ساری معیشت 56خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ امبانی اور اڈانی جیسے دو فیصد امیر بھارتی معیشت پر کنٹرول کررہے ہیں، 85فیصد کے سیاسی، سماجی ، معاشی اور شہری حقوق کو دبایا جارہا ہے اور محروم کیا جارہا ہے۔ کورونا کے وقت میں بھی جی ڈی پی اور بھارتی معیشت میں کمی آئی ہے لیکن کارپوریٹس کی دولت میں اضافہ ہواہے۔ حکومت بد قسمتی سے سرکاری شعبوں کو فروخت کررہی ہے اور وزارت ساری مملکت کے اداروں کو ڈھیر کر رہی ہے۔ حکومتی میکانزم کارپوریٹ سیاست کے زیر کنٹرول ہے۔ ایک طرف کارپوریٹس حکومت کررہے ہیں اور دوسری طرف برہمنی طاقتیں ملک کے کلچر کی مٹی پلید کرنے کے درپے ہیں۔ نفرت کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے اور فاشست طاقتیں یا ہندوتوا طاقتیں ایک قوم، ایک نظریہ کے نام پر مساوات کے حق کو پامال کررہی ہیں۔ تکثیری سماج پر اثر ڈالا جارہا ہے یہاں تک کہ کوئی کیا کھائے گا، اس حق کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے جو خلاف دستور ہے۔ اگر کوئی بیف کھاتا ہے یا جے شری رام کا نعرہ نہیں لگاتا ہے تو اس پر سفاکانہ حملہ کیا جارہا ہے اور قتل کیا جارہا ہے۔ فرقہ پرستی اور کارپوریٹ ازم دونوں ملک پر حکومت کررہے ہیں اور اثر ڈال رہےہیں تو پھر ملک دوراہے پر کیوں نہ ہو؟
یہ بھارت کی موجودہ صورتحال سے متعلق تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے دستور نے ہمیں دستوری اقدار کا ایک مجموعہ تو فراہم کیا ہے لیکن آپ ہمیں بتائیں کہ ہم ان دستوری اقدار کا اپنی روز مرہ کی زندگی سے تعلق کیسے پیدا کرسکتے ہیں؟
مذہب آپ کا اختیار ہے، لیکن دستوری رواج ہر ایک کے لیے عام ہے۔ انفرادی رواج آپ کی ذاتی زندگی تک محدود ہوتا ہے۔ عوامی نظم یا عوام کے مسئلہ میں دستور پہلے سامنے آتا ہے۔ سوسائٹی کے رواج کے طور پر اگر آپ دستوری رواج پر عمل پیرا ہوں تو یہ مساوات ، بھائی چارہ ، قومی ہم آہنگی، سیکولرازم اور امن و انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ دستوری اقدار کو ترجیح دی جانی چاہیے نہ کہ اپنے اقدار کو۔ اگر کوئی دستور کے دیباچہ کے عہد کو سمجھتا ہے تو وہ اپنی روز مرہ زندگی میں دستوری کلچر اور اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
آئینی و قانون کے ایک استاد کی حیثیت سے میں اس بات پر زور دوں گا کہ ہر شخص کو دستوری کلچر ، دستوری اصولوں اور دستوری اقدار پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور اس پر عمل کے ذریعہ ہی قوم ترقی کرسکتی ہے۔ جب جرائم ،ادارہ جاتی بن جائیں تو دستوری اقدار اور اس کے اصولوں کا مصرف کیا ہوگا؟ مثال کے طور پر اگر آپ حقیقت میں ایک خاتون کو دبانا چاہیں تو انسداد گھریلو تشدد ایکٹ کی ضرورت کیا ہے؟ دستور کنٹرول کرنے کا ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ حکام کی تمام سرگرمیوں پر گرفت ممکن ہے۔ دستور انسانی حقوق کی پاسداری میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے جو دستور میں بنیادی حقوق کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح وہ مجموعی طور پر ایک کردار کی تشریح کرتا ہے جسے ہم ایک قوم کہہ سکتے ہیں۔
ہمارا دستور دوسروں کے دستوروں پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ لہٰذا کس چیز کو دستور کا دل اور اصل روح تصور کیا جائے۔
بی آر امبیڈکر کے مطابق آئینی چارہ کار کا حق یعنی دفعہ 32، دستور کا دل اور اس کی اصل روح ہے اورجان ویل کی تھیوری کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ مساوات کا حق ہمارے دستور کی کلید یا اس کا دل ہے ۔ یہی سب سے بڑا قانون ہے جو کسی بھی فرد کے ساتھ کسی بھی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا۔
جان آر ویل کا نظریہ اور امت یاسن اور گران ویلے آسٹن کا نظریہ انصاف بھی بی آرامبیڈکر کی تحریروں اور تقاریر سے مطابقت رکھتا ہے۔ دستور کا اصل نظریہ انصاف کو فروغ دینا ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے اسمبلی میں اپنی اختتامی تقریر میں کہا تھا ’’سیاسی جمہوریت اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک اس کی بنیاد سماجی جمہوریت پر نہ ہو۔‘‘ سماجی جمہوریت کا مطلب کیاہے؟اس سے مراد ایک ایسا طرز زندگی ہے جو آزادی، مساوات اور سرپرستی کو تسلیم کرتا ہے۔ جسے ایک تثلیث کے الگ الگ جزو کے طور پر نہیں لیا جائے گا ۔ یہ اس معنیٰ میں تین کو ایک بناتے ہیں، کہ کوئی ایک دوسرے سے جدا نہ ہو، اگر ایسا ہوگا تو جمہوریت کا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ آزادی کو مساوات سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ مساوات کو آزادی سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح آزادی اور مساوات کو بھائی چارہ سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔
دستوری اقدار کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں اور ان کا ہماری تعلیم کے مقاصد سے کیا تعلق ہے؟
دستور بننے سے پہلے شودروں کو تعلیم کا کوئی حق نہیں تھا۔ ان کا استعمال محض غلاموں کے طور پر کیا جاتا تھا۔ خواتین کو کبھی بھی تعلیم کا حق نہیں دیا گیا تھا ۔ منو دھرما شاسترا کے مطابق خواتین بشمول برہمن عورتوں کو تعلیم کا حق دینے سے انکار کیا گیا۔ ایک خاتون کو لازماً غلام ہونا چاہیے اور اپنے شوہر کو خوشی و مسرت دینے والی ہونا چاہیے۔اسے مردوں کے لیے بچے پیدا کرنے والی ایک جنس کے طور پر ہونا چاہیے ۔ یہی ایک خاتون کے فرائض میں داخل تھا۔ ورنا اور ذات پات کا نظام عورتوں،دلتوں، شودروں اور اقلیتوں کو کچلتا ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر اس کلچر کو تباہ کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے دستور میں تعلیم کے حق کو ہر طبقہ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر فراہم کیا ہے۔ تعلیم کا جوہر نہ صرف روزگار فراہم کرنا ہے بلکہ یہ ایک فرد کے ساتھ ساتھ سماج میں بھی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ ’’تعلیم دو ، منظم کرو، احتجاج کرو، کے نعروں کو دیکھیں تو یہ بابا صاحب امبیڈکر کے دیے گئے تین اہم نعرے تھے اور تعلیم میں انہیں سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔
تعلیم پر دستوری اقدار کے کیا اثرات ہیں؟
تعلیم کے شعبہ میں انصاف کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر فرد کو اگے بڑھنے، ترقی کرنے اور خوشحال ہونے کا تعلیم کے ذریعہ مساوی مواقع حاصل ہوں ۔یہی وہ بات ہے جس کی بنیاد پر کوئی دستور میں بیان کردہ اصولوں اور نظریات کو سمجھ سکتا ہے۔ ایک فرد کو حکومت اور سماجی برائیوں پر تنقید کرنے کا حق ہے لیکن یہ تنقید ملک کے اتحاد اور سالمیت کے خلاف نہیں ہونی چاہیے ۔ تعلیم عوام کے اظہار کے حق کے لیے رہنمائی کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ تعلیم انفرادی اختلافات کے باوجود مساوات کا موقع فراہم کرتی ہے۔ خاتونِ آہن آنجہانی اندرا گاندھی نے ایک مثال قائم کی اور اعلیٰ ذات کے غلبہ کو تباہ کیا اور دستور میں کئی ترمیمات کیں۔ ان کی جانب سے لیا گیا ایک انقلابی قدم بھارت کو ایک زرعی ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ اراضی اصلاحات بھی ان ہی کی جانب سے لائے گئے تھے۔ ان کے زمانے میں مساوات اور تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کئی اصلاحات متعارف کیے گئے لیکن افسوس کہ آج کی نئی تعلیمی پالیسی ایک ’ٹیکنالوجیکل پالیسی‘ ہے تاکہ زیادہ اسمارٹ غلاموں کی غلامی کے ذریعہ سماج میں کارپوریٹ سیکٹر کو فروغ دیا جائے۔
دستوری کلچر سے اصل میں کیا مراد ہے؟
دستوری کلچر میں کچھ چیزیں شامل ہیں جیسےشہریوں کا باقاعدہ طور پر یہ تسلیم کرنا اور قبول کرنا کہ وہ ایک تحریری دستاویز کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، اسی سے حکومت کے ادارے تشکیل پاتے ہیں اور حکومت کیا کرسکتی ہے اس کے حدود متعین ہوتے ہیں؛ یہ تسلیم شدہ بات کہ حکمرانی کا منشور شہریوں کا تیار کردہ ہوتا ہے، اس بات کا علم کہ یہ منشور حتمی نہیں ہوتا بلکہ شہری اسے تبدیل کر سکتے ہیں یا مخصوص حالات میں منسوخ کر سکتے ہیں؛ اور اس امر کا ادراک کہ جب تک منشور کو تبدیل نہیں کیا جاتا، ہم اس کے پابند ہیں اوران سے اختلاف کرنے کے لیے آزاد ہونے کے باوجود بھی ہمیں اس کے حتمی نتائج کے ساتھ چلنا ہوگا۔ دستوری کلچر میں یہ فہم بھی شامل ہے کہ ایک آئین ایک آبادی کو لوگوں کے حلقہ تعارف سے پرے متحد کرتا ہے بالکل اسی طرح جیسے دوسری جگہوں پر دوسرے لوگ بھی اسی طرح کی تحریری دستاویز کے ذریعہ حکومت کرتے ہیں اور ہمارے دیگر اختلافات چاہے کچھ ہوں، یہی وہ چیز ہے جو ہم میں مشترک ہے۔
دستور کے مورخین اور نظریہ دانوں نے کبھی بھی اس بات کو تشفی بخش طور پر بیان نہیں کیا کہ یہ کیسے ہوا کہ وفاقی اور ریاستی آئینوں کے مسودے اور توثیق کے بعد، بڑے پیمانے پر آبادی کو سمجھ آیا کہ ان آئینوں کا کیا مطلب ہے، انہیں قانون کے طور پر قبول کیا، اور جو انتظامات کے گئے اور جو نتائج برآمد ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ایک دستوری کلچر پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی میں ناکامی ایک سنگین کوتاہی ہے۔
مثال کے طور پر، لفظ ہندو ایک مستعار لفظ ہے جو ہندو۔ ہند آریائی اور سنسکرت کے لفظ سندھو سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ’’پانی کا ایک بڑا جسم‘‘ جو ’’دریا، سمندر‘‘ احاطہ کرتا ہے ۔ اسے دریائے سندھ کے نام کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا تھا اور یہی حوالہ اس کی معاون ندیوں کے طور پر بھی دیا گیا ہے جیسا کہ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکَوری آف انڈیا‘ میں لکھا ہے۔
جدید بھارت کی وجودی حقیقت کثیر تنوع کے حامل ایک ایسے سماج میں مضمر ہے جو دستور کی تمہید میں بیان کردہ مقاصد و نظریات کے حصول کے لیے وقف ہو۔ جس میں فرد کی انفرادی حیثیت ہر دوسرے شہری کے برابر شہریت کی بنیادی اکائی کے طور پر ہو۔ بنیادی حقوق کے درمیان، ثقافتی حقوق، ایک منفرد مقام رکھتے ہیں کیونکہ وہ ثقافتی تکثیریت اور ثقافت کی جامعیت دونوں کو مفید بناتے ہیں۔اسی سے ایک قوم کے سماجی و سیاسی تانے بانے اور مختلف النوع ثقافتی برادریوں کی اجتماعی عدم رواداری کی عکاسی کرنے کے بجائے ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی ضمانت کے پس منظر میں بقائے باہمی اور رواداری کے لیے ان کی بصیرت کو یکجا کرنے پر مائل ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا اقلیتی حقوق اعلامیہ 1993 یہ ایقان رکھتا ہے کہ نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کا مسلسل فروغ اور نسلی ،مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کا احساس مجموعی طور پر معاشرے کی ترقی کے جزو لازم کے طور پر، اور قانون کی حکمرانی پر مبنی جمہوری نظام عمل کے اندرعوام اور ریاستوں کے درمیان دوستی اور تعاون کو مضبوط بنانے میں رول ادا کرے گا۔ انسانیت کے وسیع سمندر کے ساحلوں سے اقلیتوں کے اخراج کے خلاف تحفظ دینے کی بھارتی تہذیبی روایت، بالآخر اجتماعی حق کی آئینی ضمانت پر منتج ہوئی ہے۔ اس طرح ابھرنے والا ایک اصولی طرزعمل لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو تعلیمی محاذ میں زبردستی انضمام کے خلاف اور ان کے کلچر کے تحفظ کا ایک مساوی موقع دیتا ہے۔ الغرض مقصد عزیز یہ تھا کہ بھارت کے بہت سے لوگوں، زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کو رواداری اور فکری نشوونما کے ایک ماحول میں رکھا جائے ۔
دستور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیسے کرتا ہے؟
اگرچہ اقلیتیں وہ ہیں جن کی تعداد زبان اور ثقافت کے لحاظ سے کم ہے، لیکن اوپر دیے گئے دلائل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دستور ہند بھارت کے مختلف علاقوں کے کئی حصوں میں رہنے والی اقلیتوں کو کچھ حقوق فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے آئین نے ’اقلیت‘ کی اصطلاح کی تعریف نہیں کی ہے، لیکن انہیں بنیادی حقوق کی شکل میں ان کی بقا کے لیے درکار تمام مواقع فراہم کیے ہیں۔ چونکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، لہٰذا یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ اس کی ثقافتی قدروں اور رواداری کی وجہ سے برابری کی ایک حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے قوم کی سالمیت کو برقرار رکھا جائے۔ اس کے علاوہ آئین ہند کے حصہ IV-A میں ہر شہری کے لیے آرٹیکل 51A کے تحت کچھ بنیادی فرائض بھی درج ہیں۔ آئین کے مطابق اور اکثریت کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے تاکہ شہریوں میں کسی قسم کی تفریق نہ ہو۔
سی اے اے/ این آر سی کے مضمرات اور خطرات کیا ہیں؟
ایک ایسے وقت جب کروڑہا بھارتی (جن میں زیادہ تر غریب ونا خواندہ ہیں) دگرگوں ہوتی معیشت کے درمیان گزر بسر کے لیے جدوجہد کررہے ہیں حکومت کی جانب سے ان کی شہریت کے موقف کے بارے میں بے چینی پیدا کردینا سراسر ڈھٹائی ہے اور یہ عمل دم بخود کر دینے والا ہے۔
قطع نظر اس سے کہ کون سا عمل لاگو ہوتا ہے، یہ واضح ہے کہ این آر سی کا عمل ہو چکا ہے جس میں زیادہ تر ہندووں کو بھارتی شہری ہونے کو ثابت کرنے کی پریشانی سے بچالیا گیا ہے کیونکہ سی اے اے بالآخر انہیں بھارتی شہریت کے لیے جن راستوں کی پیشکش کرتا ہے وہ مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں۔
بی جے پی کے نقطہ نظر سے، این آر سی ذات پات کی تقسیم سے بالاتر ہندو شناخت کو یک جٹ کرنے میں گہرا اثر ڈالے گا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ پر رکھ کر بڑے پیمانے پر سماجی انجینئرنگ کی پالیسیوں میں اکثریتی شناخت کو تقویت دینے کا ہی رجحان ہوتا ہے۔ CAA+NRC بھی بھارت کے سماجی تانے بانے کو نئے طریقوں سے تار تار کردے گا۔
این آر سی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اجتماعی زندگی کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کرے گا ۔چناں چہ ہندووں کے لیے ان مسلمانوں سے تعلق رکھنا مشکل ہو جائے گا جنہیں شہریت سے محروم کر دیا گیا ہو حتیٰ کہ غیر ملکی قرار دیے گئے لوگوں کے ساتھ کاروبار کرنا غیر قانونی بھی ہو سکتا ہے، اس طرح مؤثر طریقے سے انہیں معاشی بائیکاٹ سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔
ان وجوہات کے سبب سی اے اے اور این آر سی 1872میں برٹش کی جانب سے مردم شماری کروانے کے بعد کسی بھارتی حکومت کی جانب سے سماج میں زہر پھیلانے کی سب سےبڑی کارروائی ہے۔ یاد رہے کہ 1872کی مردم شماری میں مذہبی سرحدوں کو سخت کرنے کے عمل کی شروعات ہوئی تھی جس نے 1947میں تقسیم کا منظر نامہ تیار کیا تھا۔
محض ایک دستاویز صدیوں سے یہاں رہتے آئے بھارتیوں کو غیر قانونی مہاجر قرار دے سکتی ہے جبکہ سی اے اے کی بدولت ایک ہندو بنگلہ دیشی ایسی صورتحال سے بچ جائے گا۔
پیام:
دستور ہند تمام افراد کو ان کی ذات ، مذہب، نسل کے باوجود مساوی سلوک فراہم کرتا ہے لیکن سی اے اے سب کو مساوی تحفظ فراہم نہیں کررہا ہے۔ دیگر طبقات کے مقابلہ میں بعض طبقوں کی جانبداری کرنا منصفانہ نہیں ہے اور بعض افراد کو دوسروں کی قیمت پر تحفظ فراہم کرنا غیر دستوری ہے۔
ملک کے متنوع سماجی تانے بانے کا ظہوردستوری بھائی چارے سے ہوا ہے ۔ موجودہ حالات میں ہماری جمہوریہ کی بنیادی اقدار خطرے میں ہیں۔ خوف، شک، نفرت اور ناانصافی، فرقہ وارانہ تنازعات اور انتشار کو بھڑکانے کا ایندھن ہیں اور ہرفرد کو ایسی تنظیموں کا مقابلہ کرنے اور قوم کی تعمیر میں باہمی تعاون کے ذریعے محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(مضمون نگار ’اورا‘ ویب میگزین کی ایڈیٹر ہیں)
***

 

***

 دستور ہند تمام افراد کو ان کی ذات ، مذہب، نسل کے باوجود مساوی سلوک فراہم کرتا ہے لیکن سی اے اے سب کو مساوی تحفظ فراہم نہیں کررہا ہے۔ دیگر طبقات کے مقابلہ میں بعض طبقوں کی جانبداری کرنا منصفانہ نہیں ہے اور بعض افراد کو دوسروں کی قیمت پر تحفظ فراہم کرنا غیر دستوری ہے۔
ملک کے متنوع سماجی تانے بانے کا ظہوردستوری بھائی چارے سے ہوا ہے ۔ موجودہ حالات میں ہماری جمہوریہ کی بنیادی اقدار خطرے میں ہیں۔ خوف، شک، نفرت اور ناانصافی، فرقہ وارانہ تنازعات اور انتشار کو بھڑکانے کا ایندھن ہیں اور ہرفرد کو ایسی تنظیموں کا مقابلہ کرنے اور قوم کی تعمیر میں باہمی تعاون کے ذریعے محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  23 جنوری تا 29جنوری 2022