غريب بچوں کا کوڑے کے پہاڑ سے اسکول تک سفر

حکومت کے دعوے کھوکھلے۔’بيٹي پڑھاؤ بيٹي بچاؤ‘ مہم بے اثر

پريت کرن(انڈيا ٹومارو)

غريبي اور ناخواندگي مٹانے کے ليے اجتماعي کوششوں کي ضرورت
’سرو شکشا ابھيان‘ کے تحت چلائي جانے والي اسکيم ’بيٹي پڑھاؤ بيٹي بچاؤ‘ مہم کے باوجود ملک کے دارالحکومت دلي ميں ہزاروں بچے کوڑے کے ڈھير ميں پرورش پا رہے ہيں جن کا مستقبل روز بروز تاريک سے تاريک تر ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہي ميں دہلي کے لينڈ فل سائٹس ميں آگ لگنے کے کئي واقعات پيش آئے ہيں۔ مسلسل کئي دنوں تک جلنے والے کچرے سے نکلنے والي زہريلي گيس سے نہ صرف وہاں کے مکين پريشان رہے بلکہ وہاں کام کرنے والے لوگوں کو بھي بے حد تکليفوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دلي ميں کوڑے اور غلاظت کو ٹھکانے لگانے کے ليے تين مقامات ہيں جن ميں اوکھلا، بھلسوا اور غازي پور لينڈ فل سائٹس شامل ہيں۔ يہاں سے نکلنے والي گيس نہايت زہريلي ہوتي ہے جس کے ہلاکت خيز ہونے ميں کوئي شبہ نہيں ہے۔ اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے بچے کوڑے کے ڈھير ميں کام کي چيزيں تلاش کرتے ہوئے دکھائي ديتے ہيں۔
غازي پور کي کچي آبادي ميں رہنے والے آصف نے بتايا کہ ان کے پاس ذريعہ آمدني کا کوئي اور راستہ نہيں تھا اس ليے وہ بچوں کو آتشزدگي کے وقت بھي کوڑا کرکٹ اٹھانے کے ليے بھيجنے پر مجبور تھے۔ وہ دن بھر کوڑا جمع کرتے ہيں، پھر اسے چھانٹ کر فروخت کرتے ہيں تاکہ دو وقت کي روٹي کا انتظام ہو سکے۔ انھوں نے بتايا کہ بچے طلوع آفتاب سے پہلے لے کر غروب آفتاب کے بعد تک اسي کام ميں لگے رہتے ہيں۔
دہلي کے بھلسوا کچڑے کے ڈھير پر بھي ايسي ہي آگ لگي۔ وہاں رہنے والي 12 سالہ ستارہ نے بتايا کہ اس نے چھٹي جماعت تک تعليم حاصل کي ہے ليکن پچھلے دو برسوں سے کوڑا چننے کا کام کر رہي ہے۔ والدين کے فوت ہو جائے کے بعد گھر کے ديگر افراد کے کہنے پر اس نے پڑھائي چھوڑ دي اور اپني بہن کي شادي اور گھر کي کفالت کے ليے يہ کام شروع کيا۔ غازي پور کي کچي آبادي ميں رہنے والي نيہا نے بتايا کہ وہ يہ کام گذشتہ تين برسوں سے کر رہي ہے اور کبھي اسکول نہيں گئي۔ اس کي عمر آٹھ سال ہے۔ بڑي بہن پہلے کچڑا اٹھانے کا کام کرتي تھي اس کے ساتھ وہ بھي روزانہ کوڑے کے ڈھير سے لوہا اور پلاسٹک چننے جاتي ہے۔ دس سالہ عمر نے بتايا کہ وہ گذشتہ تين برسوں سے اپنے خاندان کے ساتھ دہلي ميں ہے۔ اس کے خاندان ميں کوئي پڑھا لکھا نہيں ہے اس ليے کسي کو کام نہيں ملا۔ عمر نے بتايا کہ وہ بچپن ميں اسکول جاتا تھا ليکن دلي آنے کے بعد اس نے تعليم چھوڑ دي۔
دلي کي اور مرکزي حکومت کي طرف سے تعليم اور صحت کے ساتھ غربت کے خاتمے کے ليے کئي دعوے کيے گئے ہيں ليکن ان پر عمل ندارد۔ منجو کہتي ہے کہ اس نے کبھي پڑھائي نہيں کي۔ ديگر بچوں کي طرح اسے بھي اسکول جانے کي بہت خواہش تھي جو پوري نہيں ہو سکي۔ سارا خاندان صبح سے رات تک اسي کام ميں لگا رہتا ہے۔ دونوں بہنوں نے بھي پڑھائي نہيں کي۔ منجو اب 14 سال کي ہے۔ اکرم (بہار) کو بھي دوسرے بچوں کي طرح پڑھنے کا شوق ہے۔ اس نے اسکول ميں داخلہ بھي ليا تھا۔ وہ چھٹي جماعت تک اسکول جاتا تھا ليکن کچھ عرصہ پہلے اس کا خاندان بہار سے دہلي منتقل ہوا جس کي وجہ سے اس کي تعليم منقطع ہو گئي۔
حقيقت يہ ہے کہ سارا دن کچرے کے ڈھير پر گزارنے والے يہ بچے کتابوں سے بہت دور ہو چکے ہيں۔ کوئي ان کو پوچھنے والا نہيں ہے۔ جب کہ دہلي اور مرکزي حکومتيں اعلانات کرنے اور اعداد و شمار گنوانے ميں ايک سے بڑھ کر ايک ہيں۔ دلي حکومت نے مالي سال 2022 کے بجٹ ميں مزيد 11 سرکاري اسکولس کھولنے کا اعلان کيا ہے۔ اس سال تعليم کے ليے سب سے زيادہ 16,278 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کيا گيا ہے۔ عام آدمي پارٹي کے مطابق گذشتہ چند برسوں ميں دلي ميں تعليم کا معيار بہتر ہوا ہے، جب کہ مرکزي حکومت کے مطابق ’سرو شکشا ابھيان‘ کے تحت 6 سال تا 14 سال کے بچوں کا تعليم حاصل کرنا ان کا بنيادي حق ہے۔ خواتين اور بچوں کي ترقي کي وزارت نے بھي غريب لڑکيوں کو تعليم فراہم کرنے کے ليے کئي اسکيميں شروع کي ہيں۔ عين ممکن ہے کہ يہ بچے آئين اور اقتصادي سروے کي کاپياں، حکومتوں اور سياسي پارٹيوں کے دعووں پر مبني پوسٹرز، منشور، اسکولوں ميں داخلہ کے کتابچے وغيرہ کو کوڑے سے اٹھا کر اپنا پيٹ پالتے ہوں کيونکہ ان بچوں کي تعليم آئين کے مطابق نہيں ہو پا رہي ہے۔ کيے گئے دعوے ابھي تک ان بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے ليے سچے ثابت نہيں ہوئے ہيں۔ حقيقت يہ ہے کہ جب تک حکومت ان معصوموں کے تئيں مخلص ثابت نہيں ہو گي اور اجتماعي کوششيں نہيں ہوں گي يہ بچے زندگي بھر کوڑا اٹھاتے رہيں گے، نہ اسکول کا منہ ديکھ سکيں گے نہ خود کي زندگيوں ميں علم کي روشني لا سکيں گے نہ سماج ميں روشني پھيلا سکيں گے۔
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  05 جون تا 11 جون  2022