عام آدمی پارٹی کی فتح، مسلم اقليت کے ليے حوصلہ بخش

ملک میں مسلم نمائندگی کے تناسب میں گراوٹ کے درمیان خوش آئند خبر

ہارون ريشی، صحافی

سنجيد ہ فکر سياسی حلقوں ميں فی الوقت يہ سوال موضوعِ بحث بنا ہوا ہے کہ دِلی اسمبلی انتخابات ميں شاندار فتح پانے والی عام آدمی پارٹی کے تمام پانچ مسلم اُميدواروں کی جيت کی کتنی اہميت ہے؟ ايک مثبت سوچ کے ساتھ اس سوال پر غور کيا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ ايک چھوٹے سے سياسی منظر نامے پر نمودار ہونے والا يہ حوصلہ افزا واقعہ ملک کے ليے ايک نقش ِ راہ فراہم کررہا ہے۔
دِلی کے مجموعی رائے دہندگان ميں مسلم ووٹروں کا تناسب11 فیصد ہے۔ 70 اراکين پر مشتمل اسمبلی ميں اب حکمران عام آدمی پارٹی کو 62 سيٹيں حاصل ہيں، جن ميں پانچ مسلم اُميد وار ہيں۔ تناسب کے اعتبار سے ديکھيں تو يہ مسلمانوں کی کافی حد تک، کم از کم ماضی کے مقابلے ميں، ايک معقول نمائندگی ہے۔مسلم اُميد وار وں نے اوکھلہ، بليماراں، مٹيا محل، مصطفیٰ آباداور سليم پور حلقوں ميں ميدان مار ليا ہے۔بليماراں سے جيت کر آنے والے عمران حسين کابينہ ميں شامل کرديے گئے ہيں۔ جامعہ مليہ اسلاميہ ميں بزنس اسٹيڈيز ميں گريجويٹ ہوئے عمران حسين محض پانچ سال سے سياست ميں ہيں۔ مٹيا محل ميں شعيب اقبال جو مسلسل پانچ بار رکن اسمبلی رہے ہيں، نے ايک بار پھر کاميابی کا جھنڈا گاڑ ديا۔ مصطفیٰ آباد ميں حاجی يونس کو فتح نصيب ہوئی۔ سليم پور کی نشست پر عبدالرحمان فاتح قرار پائے۔ جبکہ اوکھلا حلقہ انتخاب، جس کی حدود ميں شاہين اور جامعہ مليہ آتے ہيں، ميں امانت اللہ خان نے اپنی شاندار جيت درج کرائی ہے۔ حالانکہ امانت اللہ کے خلاف بی جے پی نے يہ انتقامی مہم چلائی تھی کہ وہ شاہين باغ کے احتجاج کے روح رواں ہيں اور اس احتجاج کے ذريعے سياسی ابتری پھيلانے کی کوششوں ميں شامل ر ہے ہيں۔ بی جے پی نے شہريت قانون کے خلاف جاری اس پر امن احتجاج پر اکثريتی طبقے کے رائے دہندگان کو لبھانے کی بھر کوششيں کی تھيں۔ بلکہ بی جے پی يہ الزام بھی لگاتی رہی کہ عام آدمی پارٹی نے اس احتجاج کی حمايت کر رہی ہے۔ اس کے برعکس عام آدمی پارٹی نے نہ ہی اس احتجاج کے حق ميں کوئی بات کی اور نہ اس کے مخالفت کی بلکہ وہ صرف اپنی پانچ سالہ کارکردگی جو ترقياتی کام کی شاندار مثالوں سے عبارت رہی ہے، کے بل پر لوگوں سے ووٹ مانگتی رہی۔ نتيجہ سب کے سامنے ہے۔ نفرت کی سياست ناکام اور بہتر حکمرانی کارکرد ثابت ہوگئی۔
ينئر صحافی، تجزيہ کار اور ايڈيٹر معصوم مراد آبادی کہتے ہيں، ’’بی جے پی نے دہلی کی انتخابی جنگ کو ہندو اور مسلمانوں کے درميان ايک خطرناک معرکہ ميں تبديل کرديا تھا۔ انتہائی زہريلی انتخابی مہم سے دہلی کی فضا اتنی آلودہ ہوگئی تھی کہ لوگوں کو سانس لينا مشکل ہورہا تھا۔ ليکن جيسے ہی گيارہ فروری کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو غرور سے اکڑے ہوئے بی جے پی ليڈروں کے چہرے ان کی گردنوں کے اندر دھنس گئے۔ کيونکہ دہلی کے عوام نے شرمناک فرقہ وارانہ ايجنڈے کو مسترد کرکے صحت و تعليم اور بجلی و پانی جيسے موضوعات پر ووٹ ديا اور بی جے پی کو دھول چٹادی۔‘‘ان کا مزيد کہنا ہے، ’’ دہلی کی انتخابی جنگ ميں بظاہر عام آدمی پارٹی نے بازی ماری ہے، ليکن اگر غور سے ديکھا جائے تو يہاں شاہين باغ نے فتح کا پر چم لہرايا ہے۔ اس دليل کی بنياد يہ ہے کہ بی جے پی نے اس اليکشن ميں کجريوال کے عوامی بہبود کے موضوعات کے مقابلے ميں شاہين باغ کو ہی سب سے بڑا انتخابی موضوع بنايا تھا اور وہ دن رات شاہين باغ کے خلاف انتہائی زہريلا پروپيگنڈہ کررہے تھے۔ خود وزيراعظم نريند مودی نے دہلی ميں ايک انتخابی جلسہ ميں شاہين باغ کو ملک توڑنے کی ايک تجربہ گاہ قرار ديا تھا… بی جے پی نے شاہين باغ کو بدی کی قوت قرار دينے کی جو کوشش کی تھي‘ عوام پر اس کا الٹا اثر ہوا اور دہلی کے لوگوں نے ملک کی سياسی تاريخ کے سب سے زہريلے انتخابی پروپيگنڈے کو مسترد کرديا۔‘‘
بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران کردار کشی کی حد تک مسلمانوں کی مخالفت کی۔ بی جے پی کی جانب سے اکثريتی فرقے کے رائے دہندگان کی پولارائزيشن کی بھرپور کوششوں کا اندازہ اس بات سے لگايا جاسکتا ہے کہ انتخابی مہم کے ليے خود مودی اور اميت شاہ سے لے کر يوگی آديتہ ناتھ تک اِس کا ہر بڑا ليڈر متحرک رہا۔ رام مندر کی تعمير، دفعہ 370 کا خاتمہ، شہريت ترميمی بل کو پاس کرنا جيسی ’کاميابيوں کا ڈھنڈورہ پيٹی رہی۔ شہريت ايکٹ کے خلاف شاہين باغ ميں جاری احتجاجی لہر کے برخلاف بد گمانی پھيلانے ميں کوئی کسر باقی نہيں رکھی گئی۔ليکن يہ ساری کوششيں بے سود ثابت ہوگئيں اور بی جے پی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مبصرين کا کہنا ہے کہ اس ہار کے نتيجے ميں ممکن ہے کہ بی جے پی ميں يہ احساس جاگ جائے کہ مسلمانوں کی مخالفت کے بل پر رائے دہندگان کو زيادہ دير تک لبھانا ممکن نہيں ہے۔
دلی انتخابات ميں بی جے پی نے ايک بھی مسلم اُميد وار کو ٹکٹ نہيں ديا تھا۔ اس ميں بی جے پی کی حکمت عملی يہ تھی اولاً تو وہ يہ جانتی تھی کہ دلی کے مسلمان اس کی پاليسی سے خوش نہيں ہيں اس ليے اسے مسلم ووٹ ملنے کا کوئی امکان نہيں تھا۔ ثانياً يہ کہ عام آدمی پارٹی اور کانگريس نے مسلم اکثريتی حلقوں ميں مسلم اُميد وار کھڑے کيے تھے، اس ليے اسے اُميد تھی کہ مسلمانوں کا ووٹ تقسيم ہوجائے گا اور وہ خود مذہبی جذبات کو ابھار کر اکثريتی فرقے کی پولارائزيشن ميں کامياب ہوجائے گی۔ ليکن نتائج اس کی توقع کے برعکس برآمد ہوئے کيونکہ اب کی بار عمومی طور پر مسلم رائے دہندگان نے کانگريس کے تنزل کو ديکھتے ہوئے اسے مکمل طور پر نظر انداز کيا اور اپنی ساری قوت عام آدمی پارٹی کو جتوانے ميں لگادی۔دِلی اسمبلی انتخابات کے حوالے سے يہ خوش کن صورتحال ايک ايسے وقت ميں ديکھنے ميںآئی جب ملک کی مسلم اقليت مسلسل سات سال سے بی جے پی سرکار کی غير منصفانہ پاليسيوں حکمران طبقے کی جانب سے دی جارہی کھلی دھمکيوں، قسم قسم کی جارحيت کا نشانہ بننے اور ماب لنچنگ جيسے واقعات سے خوفزدہ ہے اور شہريت ترميمی ايکٹ اور نيشنل رجسٹريشن آف سٹيزنز جيسے قوانين کی وجہ سے طرح طرح کے خدشات ميں گھری ہوئی ہے۔مبصرين کو يقين ہے کہ دلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کئی لحاظ سے حوصلہ بخش ہيں۔ ايک تو اس سے يہ اندازہ ہوا ہے کہ اس ملک کے خمير ميں جمہوری اور سيکولر روايات اس قدر گہری ہيں کہ کئی سال سے جاری فرقہ واريت کی فضا کے معدوم ہوجانے کی پوری اُميد رکھی جاسکتی ہے۔ دوئم يہ کہ جن حلقہ ہائے انتخاب ميں مسلم رائے دہندگان کی تعداد تيس فیصد سے زيادہ ہے ان ميں حکمت عملی اور شفاف سياست کے بل پر مسلمانوں کی کاميابی کے امکانات روشن ہيں۔ کيونکہ عمومی طور پر پارليمانی انتخابات ميں بھی اُميدواروں کی زيادہ تعداد اور کئی ديگر عوامل کے سبب فیصلہ کن ووٹ تيس پينتيس فی صد ہی ہوتا ہے۔ ان مبصرين کا کہنا ہے کہ ملک ميں مسلمان عددی لحاظ سے اس پوزيشن ميں ہيں کہ اگر وہ فراست، حکمت اور يکجہتی کا مظاہرہ کريں تو اپنے سياسی حقوق کافی حد تک حاصل کر سکتے ہيں۔ اعداد و شمار سے يہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملک ميں کم از کم 200 لوک سبھا حلقوں ميں مسلمانوں کی تعداد اس قدر اچھی ہے کہ وہ اِن سيٹوں پر ہار جيت کے فیصلے ميں کليدی رول ادا کرسکتے ہيں۔ اُتر پرديش، بہار، آندھرا پر ديش، تامل ناڈو، مغربی بنگال، آسام اور دلی جيسی رياستوں ميں اگرچہ مختلف انتخابی حلقوں ميں مسلمان رائے دہندگان بڑی تعداد ميں ہيں اور انتخابی سياست ميں اُنہيں نظر انداز کرنا محال ہے۔ ليکن مسئلہ يہ ہے کہ يہ ووٹ بينک مختلف پارٹيوں ميں بکھرا ہوا ہے۔ اور يہ بکھراؤ دونوں اسمبليوں اور پارليمانی انتخابات ميں ديکھنے کو ملتا ہے۔ نتيجے کے طور پر رياستی اسمبليوں ميں بھی مسلم نمائندگان کی تعداد سکڑتی جا رہی اور پارليمنٹ ميں بھی يہ تعداد اب برائے نام رہ گئی ہے۔ مثال کے طور پر يو پی ميں مسلمان چار کروڑ يعنی مجموعی آبادی کا بيس فیصد ہيں، اسمبلی ميں مسلم اراکين محض چھ فیصد ہيں۔ جبکہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے 403 اراکين پر مشتمل اس اسمبلی ميں مسلم نمائندگان کی تعداد کم از کم 80 ہونی چاہيے تھی۔ اسی طرح بہار ميں جہاں پر کانگريس، جنتا دل
( يونائيٹڈ ) اور آر جے ڈی کی حکومتيں رہی ہيں، ميں سب سے زيادہ يعنی 10 فیصد سيٹيں صرف ايک بار يعنی 1985ء کے انتخابات ميں مسلمانوں کو ملی تھيں۔ اس کے بعد يہاں مسلم نمائندگان کی شرح کم ہوتی گئی۔
حيران کن طور پر مسلمانوں کی نمائندگی ميں ہر جگہ تسلسل کے ساتھ گراوٹ آرہی ہے۔ اعداد و شمار سے يہ ثابت ہو رہا ہے کہ راجستھان، چھتيس گڑھ، مدھيہ پرديش اور دلی ميں مسلم نمائندگی مجموعی طور پر پينتيس فیصد سے گھٹ کر بيس فیصد رہ گئی ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران چھتيس گڑھ، مدھيہ پرديش، راجستھان اور تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات ميں بالترتيب محض ايک، دو، آٹھ اور آٹھ مسلمان ہی منتخب ہوئے ہيں۔ يہی حال لوک سبھا ميں بھی ہے۔ فی الوقت پارليمنٹ ميں صرف 27 مسلم اراکين ہيں۔ جبکہ سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی چودہ فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی اور اس شرح کے لحاظ سے پارليمنٹ ميں مسلم نمائندگان کی تعداد کم از کم 75 ہونی چاہئے تھی۔ حيران کن بات يہ ہے کہ 1980ء ميں جب ملک کی مجموعی آبادی صرف 68 کروڑ تھی، اُس وقت پارليمنٹ ميں مسلم اراکين کی تعداد 49 تھی اور آج جب ملک کی آبادی ايک ارب تيس کروڑ ہے اور اس ميں مسلم آبادی تقريباً پندرہ فیصد ہے، پارليمنٹ ميں مسلم ممبران کی تعدادمحض 27 ہے۔ زيادہ آسانی سے سمجھنے کے لئے يہ کہا جاسکتا ہے کہ 1980ء ميں پارليمنٹ ميں مسلمانوں کی نمائندگی نو فیصد تھی اور آج پانچ فیصد بھی نہيں۔ يعنی آج ملک ميں مسلم اقليت کی آبادی پندرہ فیصد ہے ليکن پارليمنٹ ميں ان کی نمائندگی محض پانچ فیصد ہے۔ کيا مسلم نمائندگان کی شرح ميں يہ تنزل محض اتفاق ہے۔
’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرے کی حامل بھاجپا پہلی حکمران جماعت ہے جس کا پارليمنٹ ميں محض ايک مسلم رکن ہے۔ بی جے پی سے تو خير کوئی توقعات نہيں رکھی جاسکتيں۔ ليکن سچ يہ بھی ہے کہ کانگريس نے بھی قومی سطح پر کبھی مسلمانوں کو سياست ميں اُن کے حقوق نہيں ديئے تھے۔1952 سے لے کر 1977ء تک جبکہ لوک سبھا ميں کانگريس کا بول بالا تھا، مسلم ممبران کی تعدا دس فیصد سے کم رہی۔يہاں تک کہ 1984ء ميں راجيو گاندھی کی زبردست فتح ميں بھی مسلم اراکين پارليمان کی تعداد محض 46 رہی۔ کانگريس نے دہائيوں تک مرکز ميں گدی نشين ہونے کے باوجود ملک گير سطح پر مسلم طبقے کی فلاح کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہيں کئے۔ اس ضمن ميں سچر کميٹی کی رپورٹ کو بطور ايک ثبوت کے پيش کيا جاسکتا ہے، جس ميں يہ انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی حالت شيڈول کاسٹ اور شيڈول ٹرائب سے بھی گئی گزری ہے۔ کانگريس تو بہرحال اب قصہ پارينہ ہوکر رہ گئی اور بی جے پی سے کسی خير کی توقع بھی نہيں۔ ايسی صورت ميں سوال پيدا ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے سياسی حقوق جو انہيں ملک کا آئين فراہم کرتا ہے، کے حصول کے ليے اور اپنی حالت سدھارنے کے ليے کيا کر سکتے ہيں۔ چونکہ ملکی سطح پر کسی مسلم جماعت کے ابھرنے کے امکانات دور دور تک نظر نہيں آتے ہيں۔ حالانکہ اس وقت بھارت ميں کم ازکم سات مسلم تنظيميں قومی پارٹيوں کی حيثيت سے درج ہيں۔ ليکن ان ميں سب سے بڑی پارٹياں آل انڈيا مجلس اتحاد المسلمين، انڈين يونين مسلم ليگ اور آل انڈيا يونائيٹڈ ڈيموکريٹک فرنٹ علاقائی مسائل تک ہی محدود رہی ہيں۔ اگرچہ کہ مجلس اتحاد المسلمين قومی سطح پر مسلمانوں کو درپيش مسائل کو لے کر منہ پھٹ ہے اور ماب لنچنگ، مسلم شناخت اور تحفظ اور تشدد وغيرہ جيسے معاملات پر بے جھجھک بات کرتی ہے ليکن عملی طور پر يہ جماعت حيدر آباد تک ہی محدود ہے۔ حالانکہ اس نے مہاراشٹرا، يو پی اور بہار ميں قدم جمانے کی کوشش کی ليکن کوئی خاطر خواہ کاميابی حاصل نہيں کر پائی۔
اس صورتحال کے تناظر ميں آج ملک کی مسلم اقليت کے سامنے يہ سوال ہے کہ وہ اپنے سياسی حقوق کے حصول کے ليے کيا حکمت عملی اختيار کريں۔ صاف ظاہر ہے کہ ان ناموافق حالات ميں مسلمانوں کو ميسر نظام ميں ہی اپنی نشو ونما کے ليے گنجائش پيدا کرنی ہوگی۔ اس ضمن ميں دلی اسمبلی انتخابات ميں مسلمانوں کی عملی شرکت کا حوصلہ افزا نتيجہ ايک نقش راہ فراہم کرتا ہے۔عام آدمی پارٹی کی حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران اپنا پورا دھيان دہلی کی تعمير و ترقی پر ديا اور ظاہر ہے کہ ايک بہتر جمہوری اور سيکولر نظام کی حامل پارٹی کی حکمرانی ميں ’ريوڑياں مڑ مڑ کے اپنوں ميں بانٹنے‘ کی کوئی گنجائش نہيں ہوتی ہے۔ اس ليے اس تعمير وترقی کا پھل بلا امتياز مذہب و ملت اور رنگ و نسل سب کو ملا۔ يہی وہ سياست ہے، جو حقيقی معنوں ميں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرے کی حامل ہوسکتی ہے۔ مسلمانوں کو ايک مثبت طرز فکر کے ساتھ مختلف سياسی جماعتوں اپنی اہميت کا احساس دلانا ہوگا اور يہ صرف اسی صورت ميں ہوسکتا ہے کہ اگر دلی کے مسلمانوں کے طرز پر يک جٹ ہوکر اپنے اندر جوش و خروش پيدا کريں۔ ايسا کرنا ناگزير بھی ہے کيونکہ اس کا انحصار مسلم اقليت کے مستقبل سے بھی وابستہ ہے۔ ملک کی آبادی بڑی تيزی سے بڑھ رہی ہے اور تخمينے کے مطابق آنے والے دو تين دہائيوں ميں بھارت دُنيا کا واحد ملک ہوگا جہاں سب سے زيادہ مسلمان بستے ہوں گے۔ اس لحاظ سے سياسی حقوق کو حاصل کرنا صرف دور حاضر کے ليے ہی نہيں بلکہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کے ليے بھی ضروری ہے۔ مسلمانوں کو ملکی سياسی منظر نامے ميں اپنی پہچان پيدا کرنی ہوگی اور حکمت اور يکجہتی کے ساتھ اپنی سياسی اہميت منوانی ہوگی۔ تاکہ ان کے ساتھ دہائيوں سے ہو رہے استحصال کے سلسلے کو روکا جا سکے۔
****