’نئی تاریخ گھڑنے کی سازش: حکومت جنگ آزادی کی یادوں اور ورثے کو برباد کررہی ہے‘

گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی سے ہفت روزہ دعوت کی خاص بات چیت

افروز عالم ساحل

ملک کی موجودہ حکومت کی خواہش ہے کہ اصل تاریخ کو ختم کرکے ایک نئی تاریخ گھڑی جائے، تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ ستر سالوں سے آپ کو غلط باتیں بتائی گئی ہیں اور اب ہم آپ کو صحیح معلومات دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ملک کے تمام تاریخی مقامات کو برباد کر دیں گے اور اپنی مرضی کی نئی تاریخ گھڑ کر پیش کریں گے۔‘

یہ باتیں مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے احمد آباد میں واقع گاندھی آشرم (سابرمتی آشرم) کو ازسر نو ترقی دینے (Re Development) کے مجوزہ منصوبے کو چیلنج کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست (پی آئی ایل)  داخل کی ہے  جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مجوزہ ری ڈیولپمنٹ منصوبہ مہاتما گاندھی کی خواہشات اور مرضی کے خلاف ہے۔ یہ منصوبہ ہندوستان کے تحریک آزادی کی مندر اور اسمارک (یادگار) کی اہمیت کو کم کر دے گا اور اسے تجارتی سیاحتی مقام میں بدل دے گا۔ واضح رہے کہ یہ آشرم سال 1933 میں ’ہریجن سیوک سنگھ‘ کو وراثت میں ملا تھا، تب سے یہ پورے سابرمتی آشرم کمپلیکس کی جائیداد کا نگہبان ہے۔

اس پی آئی ایل میں کہا گیا  کہ ’سابرمتی آشرم (جسے ہریجن آشرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) 1917 سے 1930 تک گاندھی جی کا گھر تھا اور ہندوستانی تحریک آزادی کے اہم مراکز میں سے ایک کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہیں سے گاندھی جی ستیہ گرہ کی قیادت کرنے کے لیے چمپارن روانہ ہوئے تھے۔ یہیں سے انہوں نے کھیڑا اور ویرمگام ستیہ گرہ کی قیادت کی۔ اسی آشرم سے عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ انہیں اسی سابرمتی آشرم سے گرفتار کیا گیا اور بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا۔ سابرمتی آشرم سے ہی وہ 12 مارچ 1930 کو تاریخی ڈنڈی مارچ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس طرح سے یہ آشرم اس دور میں ستیہ گرہ، سودیشی اور کھادی کے لیے ایک تجربہ گاہ اور تربیتی مرکز بن گیا تھا، اور اس نظریے کا گھر جس نے بالآخر ہندوستان کو آزادی دلائی۔‘

ہفت روزہ دعوت سے خاص بات چیت میں تشار گاندھی نے کہا،  ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک میں سچائی کا دور دورہ تھا، اب ہم لوگ جھوٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ اب جھوٹ کو ہی لوگ سچ ماننے لگے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سارے جھوٹ سچ مانے جائیں۔ اسی لیے خواب جھوٹے ہیں، وعدے بھی جھوٹے ہیں، کام بھی جھوٹا اور نیت بھی جھوٹی ہے۔ سال 2019 سے گجرات حکومت نے سابرمتی آشرم کو  ’’عالمی معیار کا عجائب گھر‘‘ اور ’’سیاحتی مقام‘‘ بنانے کے لیے اسے دوبارہ ڈیزائن اور دوبارہ تیار کرنے کے اپنے ارادے کو عام کر رہی ہے۔ اس دوران آشرم میں بہت کچھ بدل ڈالا گیا۔ مجھے خبروں سے معلوم ہوا کہ اس آشرم کے مذکورہ ’ری ڈیولپمنٹ پلان پراجکٹ‘ پر سرکاری خزانے سے بارہ سو کروڑ روپے کا غیر ضروری خرچ کیا جائے گا، جس سے پرانے آشرم کی ٹپوگرافی بدل جائے گی۔ یہی نہیں، اس پراجکٹ میں مبینہ طور پر چالیس سے زائد ’’متصل‘‘ عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں محفوظ رکھا جائے گا، جبکہ باقی تقریباً دو سو عمارتوں کو گرا دیا جائے گا۔

تشار گاندھی ہفت روزہ دعوت سے بات چیت میں کہتے ہیں، ’ یہ حکومت جنگ آزادی کی تمام یادوں اور ورثے کو برباد کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ اصل تاریخ کو ختم کرکے ایک نئی تاریخ گھڑی جائے، تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ستر سالوں سے آپ کو غلط باتیں بتائی گئی ہیں اور اب ہم آپ کو صحیح معلومات دے رہے ہیں۔ سابرمتی آشرم کی سادگی ختم کر دی گئی ہے۔ اگر اسے اسی حالت میں رکھا جاتا، جس حالت میں وہ باپو کے وقت تھا تو لوگوں کو معلوم ہوتا کہ گاندھی جی کس سادگی سے زندگی گزارتے تھے۔ اگر آپ اسے پانچ ستارہ بنا دیں گے، تو لوگوں کو غلط فہمی ہوگی کہ گاندھی تو شان وشوکت کی زندگی جیتے تھے، لیکن بات سادگی کی کرتے تھے۔ اس میں ایک سازش یہ ہے کہ گاندھی جی کے وجود پر ہی ایک سوالیہ نشان لگا دیا جائے۔ موجودہ پراجیکٹ یہی کام ہونے جا رہا ہے۔ اس مجوزہ ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ سے اس آشرم کی ساخت بدل جائے گی اور یہ اس آشرم کی قدیم سادگی اور کفایت شعاری کو خراب کر دے گا، جو گاندھی جی کے نظریے کا مظہر ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’جلیان والا باغ کو اب تک پرانی حالت میں رکھا گیا تھا۔ ہم وہاں جاتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ کیسے گولیاں چلی تھیں، لوگ کیسے دوڑے تھے، کیسے کنویں میں کودے تھے، ان پر کیا گزری تھی۔ کئی سالوں تک کنویں کی دیواروں پر خون کے دھبے دکھائی دیتے تھے۔ گولیوں کے نشان نظر آتے تھے۔ دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اس وقت کتنا بھیانک منظر رہا ہو گا۔ لیکن اب یہاں شاندار لان بنا دیا گیا ہے، دیواروں میں پتھر لگا دیے گئے ہیں، کنویں کے آس پاس گھر بنا دیے گئے ہیں۔ جلیان والا باغ کے اس احساس کو ختم کر دیا گیا۔ اس طرح سے یہ لوگ اپنے جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ملک کے تمام تاریخی مقامات کو برباد کر دیں گے اور اپنی مرضی کی نئی تاریخ گھڑ کر پیش کریں گے۔‘

تشار گاندھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کی حکومتیں گاندھی جی کے نام کا استعمال تو کر رہی ہیں لیکن گاندھی جی کے ورثہ یا ان سے منسوب مقامات کو بچانے کا کام نہیں کر رہی ہے۔ ملک میں جس ورثہ کو قومی ورثہ یا میموریل کی شکل میں پہچان ملی ہے، ان کی بھی حالت خراب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ باپو کا جو الفریڈ ہائی اسکول تھا اس کو کچھ سال قبل نریندر مودی نے بند کروا دیا۔ اور اب وہاں باپو کے نام پر ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ اگر یہ اسکول باقی رہتا تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی اور یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ فخر محسوس کرتے۔ لیکن ایسا وہ چاہتے ہی نہیں ہیں۔

تشار گاندھی کہتے ہیں، آپ پوربندر جا کر دیکھیے جو کہ باپو کی جائے پیدائش ہے، اس کو قومی ورثہ کی شکل میں رکھا جانا تھا لیکن اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ یہ بس بلڈنگ کا محض ایک ڈھانچہ ہے۔ کسی نے بھی اس کے تحفظ کی فکر نہیں کی۔ ہمارے پاس ہیریٹیج ایکسپرٹس ہیں، ان کو اس وقت کی تہذیب، رہنے کے ڈھنگ اور رسم و رواج کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے قوت ارادی یا خواہش چاہیے جو کہ نہیں ہے۔ بس ایک تختی لگا دی گئی کہ یہ قومی ورثہ ہے اور کام ختم۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ گاندھی جی کے اسی گھر کے پیچھے کستوربا گاندھی کا گھر ہے، جہاں ان کا جنم ہوا۔ اس کو بھی ریاستی ورثہ کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کی بھی حالت کافی خستہ ہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ معلوم بھی نہیں ہوگا کہ باپو کے گھر کے پیچھے ہی کستوربا گاندھی کا گھر بھی ہے۔ راجکوٹ میں جہاں باپو کا گھر ہے وہ بھی ایک قومی ورثہ ہے۔ ایک نجی تنظیم اس کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

بتا دیں کہ حکومت نے سابرمتی آشرم کی ری ڈیولپمنٹ کے مجوزہ منصوبے کے لیے ایک گورننگ کونسل تشکیل دی ہے۔ تشار گاندھی نے اس پی آئی ایل میں ری ڈیولپمنٹ کے کام کے لیے ایک گورننگ کونسل اور ایک ایگزیکٹیو کونسل کی تشکیل پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کی اس پٹیشن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’یہ حکومت کی جانب سے آشرم پر دھوکہ سے قبضہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘

اس کے علاوہ پی آئی ایل میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آشرم ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کو تصور کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں سرکاری عہدیداروں کی ضرورت سے زیادہ شمولیت کے ساتھ گاندھیائی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس عرضی میں تشار گاندھی نے عدالت سے یہ ہدایت دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے کہ گاندھی آشرم میں کسی بھی ری ڈیولپمنٹ کے کام کی سربراہی سابرمتی آشرم پریزرویشن اینڈ میموریل ٹرسٹ کے پاس ہونی چاہیے جو اس وقت راشٹریہ گاندھی اسمارک ندھی کے زیر اہتمام چلتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ گاندھی اسمارک ندھی کے قیام کے وقت جو اصول وضع کیے گئے تھے، ان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حکومت آشرم یا اسمارک کے کسی بھی کام میں براہ راست ملوث نہیں ہوگی۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ حکومت سے پیسے مت لو اگر حکومت سے پیسہ لینا ضروری ہے تو حکومت کا کردار صرف پیسے دینے تک محدود ہونا چاہیے۔ کوئی بھی کام ٹرسٹ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے، حکومت صرف فنڈز فراہم کرے، باقی کاموں سے الگ رہے۔‘‘

تشار گاندھی ہفت روزہ دعوت کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’وزیراعظم نریندر مودی کی آستھا گاندھی جی میں نہیں ہے۔ ان کی آستھا تو گوڈسے میں ہے، ساورکر اور گولوالکر میں ہے۔ یہ اپنا ہیرو ناتھورام گوڈسے کو مانتے ہیں۔ یہ ان کا اصلی ہیرو ہے۔ اسی لیے یہ اس کو دیش بھکت پنڈت ناتھورام گوڈسے کہہ کر بلاتے ہیں۔ اسی کی مالا جپتے ہیں۔ اس کی سالگرہ اور پھانسی کی یادگار مناتے ہیں۔ اس کا مندر بناتے ہیں۔ ان کی رگ وپے میں ناتھورام گوڈسے بسا ہوا ہے۔ وہ اسی قبیل سے نکلے ہیں، وہ اسی نظریے کی پیداوار ہیں ان کی پرورش اور پوری پہچان اسی نظریے سے ہے۔ وہ صرف اور صرف دکھاوا کرسکتے ہیں۔ ان کی نظر میں گاندھی ایک ویلن ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ گاندھی کو ہندوستان کے لیے ابھیشاپ (لعنت) ہی سمجھا ہے۔ وزیر اعظم جانتے ہیں کہ چونکہ گاندھی جی کی دنیا بھر میں شہرت ہے اس لیے دل پر جبر کرتے ہوئے انہیں دکھاوا کرنا پڑتا ہے ورنہ لوگ ان پر سوال اٹھائیں گے۔‘

ملک کے گاندھی وادی بھی کر رہے ہیں مخالفت

سابرمتی آشرم گاندھی جی کی سادگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایسے میں ملک کے زیادہ تر گاندھی وادیوں کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر کروڑوں روپے خرچ کر کے اس کمپلیکس کو سجایا گیا تو سادگی باقی نہیں رہے گی۔

بتا دیں کہ تشار گاندھی کی اس پی آئی ایل سے قبل ملک کے تقریباً ایک سو تیس گاندھی وادیوں نے اس سابرمتی آشرم کے ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے خلاف کھلا خط لکھ چکے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا بھی کہنا ہے کہ اتنے بھاری اخراجات سے اس پراجیکٹ کو نافذ کرنے سے گاندھی جی کی سادگی والی امیج ختم ہو جائے گی اور یہ منصوبہ گاندھیائی سوچ کے خلاف ہے۔ خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ گاندھی جی کی سب سے اہم اور جدوجہد آزادی کی یادگار اس منصوبے کی دھوم دھام اور کمرشلائزیشن میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

غور طلب بات ہے کہ ’گاندھی سے جڑے اداروں پر سرکاری قبضہ روکو‘ کے نعرے کے ساتھ شروع کی جانے والی ’’لیٹر کیمپین‘‘ میں مورخ رام چندر گوہا، مہاتما گاندھی کے پڑپوتے راج موہن گاندھی، مصنف و جواہر لال نہرو کی بھتیجی نینتارا سہگل، فلمساز آنند پٹوردھن، فریڈم فائٹر جی جی پاریکھ، معروف ادبی نقاد اور سنٹر فار لینگویج ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز، وڈودرا کے بانی ڈائریکٹر گنیش دیوی، ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج اے پی شاہ جیسے نام شامل ہیں تاہم، حکومت کی جانب سے آشرم کے ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے لیے بنائی گئی گورننگ کونسل میں شامل راجیہ سبھا کے رکن نرہری امین، مجوزہ پراجیکٹ کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات پر میڈیا میں اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ ’’گاندھی آشرم سے جڑی سرگرمیاں چلتی رہیں گی۔ بارہ سو کروڑ روپے کی رقم سڑک، لائٹس، پارکنگ کی سہولیات وغیرہ بنانے کے لیے ہے۔ یہاں ایک باغ بھی بنایا جائے گا۔‘‘

اشوک گہلوٹ کا خط

کچھ دنوں قبل راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوٹ نے بھی ٹویٹر پر ایک خط پوسٹ کیا۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ ’’گاندھی آشرم کے تقدس اور فخر کو تباہ کرنا بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توہین ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور تاریخی آشرم کو جوں کا توں باقی رکھنا چاہیے۔“

’’لوگ اس مقدس مقام پر آ کر دیکھ سکتے ہیں کہ گاندھی جی کتنے سادہ طریقہ سے رہتے تھے۔ سابرمتی آشرم اپنی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے جذبے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے لوگ اس گاندھی آشرم کو دیکھنے آتے ہیں تو وہ کوئی ورلڈ کلاس عمارت دیکھنے نہیں آتے ہیں۔ لوگ اس جگہ کی سادگی اور آئیڈیل کی تعریف کرتے ہیں۔ اس لیے اس جگہ کو آشرم کہا جاتا ہے نہ کہ میوزیم؟ یہ فیصلہ سیاست سے متاثر ہے۔ اس فعل کا شمار تاریخ میں بے رحمانہ کارروائیوں میں کیا جائے گا۔ آنے والی نسل ورثے کو نقصان پہنچانے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔‘‘

***


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  28 نومبر تا 4 دسمبر 2021