دیوبندی بریلوی مفاہمت :وقت کا اہم تقاضا

ڈاکٹر وارث مظہری

اتحاد امت کےحوالے سے جہاں وعظ ونصیحت ضروری ہے، وہیں گہرے تجزیے کے ساتھ عملی تجاویز کی اہمیت بھی ہے۔ زیر نظر مضمون بر صغیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی اور مشکل قسم کی گروہ بندی سے متعلق ہے، اس کے کچھ نکات سے اختلاف کی گنجائش ضرور ہے، تاہم اس رخ پر غور و فکر اور مباحثے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔( ادارہ)

برصغیر ہند کے مسلمانوں کو اس وقت جو اہم چیلنج درپیش ہیں ،ان میں مسلکی اور نظریاتی اختلافات بھی شامل ہیں ،جنہوں نے اسلامی اجتماعیت کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ یہاں کے سنجیدہ اہل علم و فکر پر مشتمل ایک جماعت ہمیشہ اس کے لیے کوشاں رہی ہے کہ کسی بھی طرح ان اختلافات کی شدت وشناعت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس مو ضوع کے تعلق سے غور و فکر کا ایک عنوان یہ ہے کہ کیا دیوبند اور بریلی کے درمیان پیداشدہ فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟ ان دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا جاسکتا ہے؟ ایسے وقت میں جب کہ مسلمان اور غیر مسلم، اسلام اور مغرب مکالمے کا غلغلہ ہے۔سوال یہ ہے کہ خود اپنے گھر کو درست کرنے کے لیے اس سطح پر کوشش کیوں نہیں کی جاسکتی؟میرے خیال میں ایسی کوئی بھی مضبوط کوشش حالیہ تایخ میں ہندوستان میں نہیں کی گئی۔ دونوں جماعتوں کے شدت پسند اور تنگ نظر افراد سرے سے ایسی فکر و کوشش کوغیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے لوگوں کی نگا ہ میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان حق وباطل کا اختلاف ہےاور ظاہر ہے حق و باطل میں اتحاد ممکن نہیں۔
لیکن حقیقت میں یہ ایک پاکیزہ مقصد ہے جس کوبروئے کار لانے کے لیے ہرممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ ایسے درد مند ان جماعتوں میں موجود ہیں جو صدق دل سے یہ خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان میں حلقہ ٔ دیوبند کے بڑے عالم مولانا رفیع عثمانی( مفتی تقی عثمانی صاحب کے برادر گرامی) اور اہل سنت کی اہم شخصیت مولانا شفیع اوکاڑویؒ (مولانا کوکب نورانی صاحب کے مرحوم والد گرامی) نے اس تعلق اسی کی دہائی میں اس حوالے سے مشترکہ کوششوں کوآگے بڑھایا تھا لیکن مولانا اوکاڑوی کی اچانک وفات(1984) سے یہ کوشش کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔مشہور عالم دین مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلویؒ(وفات: 2009) نے اپنی وفات سے کچھ قبل ایک رسالہ دیوبندی بریلوی مفاہمت پر قلم بند کیا تھا اور اس کا ایک نسخہ راقم الحروف کو بھی بھجوایا تھا کہ اس پر کچھ لکھوں۔ اس میں انہوں نے دونوں جماعتوں کے درمیان اختلاف کی خلیج کو پاٹنے کی حتی الوسع نظریاتی کوشش کی تھی۔لیکن کتابچے کی تشہیر نہیں ہوسکی یا لوگوں نے اس میں دل چسپی نہیں دکھائی۔
اس میں شک نہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے بعض اختلافات اہم اور غیر معمولی نوعیت کے ہیں، جیسے رسول اللہ ﷺ کی بشریت،علم غیب اور رسول اللہ ﷺکے حاضر و ناظر ہونے کے مسائل۔ اسی طرح بزرگوں سے استمداد و توسل کا مسئلہ وغیرہ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں ان مسائل کا جو تصور ہے،ثقہ علماے اہل سنت(اس مضمون میں اہل سنت سے مراد بریلوی ہیں، کیوں کہ وہ اسی نام سے معروف ہیں) کا تصور اس کے بر عکس ہے۔وہ جس طرح ان مسائل کی تشریح کرتے ہیں،ان کے تناظر میں اختلاف کی نوعیت اتنی شدید نہیں رہ جاتی،جس کی بنیاد پر باہم صف آرائی اور ایک دوسرے کی تضلیل و تفسیق کی کوشش کی جائے۔مثلاً مولانا احمد رضاخاںؒ کہتے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺکو بشر تصور نہ کرے وہ مسلمان نہیں۔اس طرح ان کی نظر میں آپ کا بشر ہوناتو متحقق ہے البتہ ان کی نظر میں آپ کی بشریت عام بشریت سے ذرا مختلف ہے۔اس طرح آپ کے نور ہونے کا تصور بھی نور محمدی کے اس تصور سے ماخوذ ہے جو عہد وسطی سے لے کر اب تک علما و صوفیہ کی ایک جماعت کے درمیان مقبول رہا ہے۔بعض روایات بھی صوفیا کے درمیان اس بارے میں مشہور رہی ہیں۔
توسل کے مسئلے میں خود علماے دیوبند اور سلفی علما کے درمیان اختلاف ہے۔ مجمع الملک فہد، سعودی عرب سے مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ترجمے کی اشاعت پر پابندی کی بنیادی وجو ہ میں ایک اہم وجہ غالبایہ بھی رہی ہے۔اسی طرح دیوبندی اکابرکی جو بعض قابل اعتراض عبارات ہیں جن میں مولانا اشرف علی تھانوی کی’’ حفظ الایمان‘‘،مولانا قاسم نانوتویؒ کی’’ تحذیر الناس‘‘،مولانا رشید احمد گنگوہی کی ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ اورمولانا اسماعیل شہیدؒ کی’’ تقویۃ الایمان‘‘کی عبارتیں سرفہرست ہیں۔ یا ان کے بالمقابل مولانا احمد رضا خاںؒ کی ’’ فتاوی رضویہ ‘‘کی عبارتیں۔ ان عبارتوں کوان بزرگوں کے ساتھ خاص سمجھنا چاہیے۔یہ کیا ضروری ہے کہ ہم ان سے سو فیصد اتفاق ہی کرلیں۔ایسے کسی بھی معاملے میں ان بزرگوں سے اختلاف کرنا ان کے احترام اور عظمت شان کوکم نہیں کرتا۔ان کے بعد عرس، قیام، میلاد وغیرہ جیسے مسائل آتے ہیں جو اب اہل سنت(بریلوی) کی پہچان بن چکے ہیں لیکن نہ تو ان کی شروعات اہل سنت کے دم سے ہوئی اور نہ ہی وہ ان کے ساتھ خاص ہیں۔عوامی اور تصوف کے روایتی حلقوں میں ان کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے جو دیوبندی اور بریلوی دونوں علما کا مشترکہ اثاثہ رہے ہیں۔ 19و یں صدی کے اواخر تک ان دونوں جماعتوں کی باضابطہ نظریاتی تشکیل سے قبل عرس و میلا د کی محفلیں عام تھیں۔تصوف کی پائے کی شخصیات کا ان پر عمل تھا۔خود بانیان دیوبند کے مرشد اور حلقہ ٔ دیوبند کے مر جع ومقتدا جنہیں بجا طور پر سید الطائفہ یعنی سر گروہ علمائے دیوبند کہا اور سمجھا جاتا ہے :حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ،وہ نہ صرف عرس ،قیام اور میلا د وغیرہ کوروحانیت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے،بلکہ وہ خود بھی ایسا کرتے تھے اور ان کے نظریاتی وکیل بھی تھے۔ان مسائل پرانہوں نے’’ فیصلہ ٔہفت مسئلہ‘‘ تحریر فرمایا۔اسی طرح دیوبند کے محرک اولیں عابد حسین صاحب بھی ایسے ہی خوش عقیدہ مسلمانوں میں تھے جو اہل سنت کے ساتھ مخصوص سمجھے جانے والے اعمال انجام دیتے تھے۔اس بنیاد پر اہل دیوبند میں سے کون انہیں بدعتی قرار دینے کے لیے تیار ہوسکتا ہے؟خود مولانا تھانویؒ عرس کے جواز کے قائل تھے۔ان کا یہ قول ان کی کتاب’’بوادرالنوادر‘‘ میں موجود ہے۔
میلاد النبی ﷺکے جواز کے قائل علماے اسلاف میں سے بڑی بڑی شخصیات رہی ہیں اور خود ان کے قلم سے درجنوں کتابیں موجود ہیں جیسے: ابن جوزی،جلال الدین سیوطی،حافظ شمس الدین دمشقی، ملا علی قاری اور ابن کثیروغیرہ) (یہاں صرف چند مسائل کی طرف معمولی اشارہ مقصود ہے ۔کوئی بحث مقصود نہیں ہے۔)
در اصل ان اعمال ونظریات کے بجائے دیوبندیت و بریلویت کی تشکیل میں اہم عامل دو رہے ہیں۔ایک’’ تقویۃ الایمان‘‘ جس میں بعض عوامی نظریات اور مزاروں اور خانقاہوں کے بعض اعمال و مظاہر کے خلاف شدید ترین رویہ اختیار کیا گیا ہے اور تدریج کے اصولوں کو نظر اندازکرتے ہوئے انہیں باضابطہ شرک (شرک جلی) قرار دیا گیاہے۔شاہ ولی اللہ کے یہاں جو توسع ہے اور ان کے وارث علمائے دیوبند جس لچک کے قائل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ حضرت اسماعیل شہیدؒ کی جلالت قدر کے تمام تر احترام و اعتراف کے باو جود حضرت شہید کی یہ شدت اور غیر مصلحت بینی اس سے میل نہیں کھاتی۔اس کا احساس بعض علماے دیوبند کو بھی رہا ہے جن میں سر فہرست علامہ انور شاہ کشمیری اور مولانا حسین احمد مدنی ؒہیں۔ مولانا کشمیری کی’’ فیض الباری‘‘ میں ان کا یہ نقطہ ٔ نظر سامنے آتا ہے کہ :تقویت الایمان میں شدت پسندی کا رویہ اختیار کیے جانے کی وجہ سے اس سے لوگوں کو زیادہ فائدہ نہ پہنچ سکا۔( فیض الباری، ج،1،ص،252،مکتبہ فیصل دیوبند،2017 ) اسی قبیل کی قول مولانا حسین احمد مدنی سے بھی منقول ہے۔
دوسرا اہم عامل مولانا احمد رضاخاں فاضل بریلوی کی طرف سے علماے دیوبند و علماے ندوہ کے خلاف با لترتیب ’’حسام الحرمین علی منخر الکفر والمین‘‘ اور’’ فتاوی الحرمین برجف ندو ۃ المین‘‘ کا لکھا جانا ہے۔خاص طو ر پر اول الذکر کتاب مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارن پوری اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے فاضلین وعباقرہ ٔ رو زگار علما کی تکفیر کے لیے لکھی گئی، جس کی تصدیق کے لیے علماے حرمین کی مدد بھی حاصل کی گئی۔فاضل بریلوی کا یہ اقدام ایسا ہی تھا کہ اس پر واویلا ہو ۔چیخ پکار مچے ۔ظاہر ہے حرمین کی تلوارسے ان اکابر شخصیات کا بے رحمی کے ساتھ قتل ناگہانی ٹھنڈے پیٹوں کون برداشت کرسکتا تھا؟ تاہم اب اس واقعے پر ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔اب مرغ قبلہ نما کے آشیانے میں تڑپنے کا کچھ بھی حاصل نہیں ہے۔فاضل بریلوی کے تعلق سے یہ واقعہ اہم ہے کہ انہوں نے حضرت اسماعیل شہید ؒمیں ستروجوہ ِ کفر کی نشان دہی کی لیکن انہیں باضابطہ کافر نہیں ٹھہرایا۔لیکن علماے دیوبند کے تعلق سے یہ احتیاط نہ برتی جاسکی،جس کی وجہ غالبا دینی سے زیادہ سیاسی تھی اور اس میں معاصرانہ چشمک کو بھی دخل تھا۔
مسائل ونظریات سے ہٹ کر اب یہ شناخت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ من وتو کی تفریقی شناخت کو برقرار رکھنے کی دو طرفہ کوششوں نے اس میں وہ شدت پیدا کردی ہے کہ باہمی اتحاد و مفاہمت کی کوششیں جوئے شیر لانے کے مترادف محسوس ہوتی ہیں۔
بہرحال ماضی کے بزرگوں کے اپنے اجتہادات اور اپنی فکر تھی۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کی فکر و اجتہاد کی ہر شق پر ایمان لائیں اور اسے اپنے ایمان کی اساسات اور جزئیا ت قرار دیں۔ان حضرات کی فکر و نظر کی تشکیل میں دوسری چیزوں کے علاوہ مختلف زمانی و مکانی عوامل بھی کار فر ما تھے۔جس کا مطالعہ اوشا سانیال کی کتاب: Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barelwi and His Movements ,1870-1920 by Usha Sanyal میں کیا جاسکتا ہے۔(اس کا ترجمہ راقم الحروف کے قلم سے بعنوان:’’ برطانوی ہندوستان میں عقیدت پرمبنی اسلام اور سیاست: اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان اور ان کی تحریک 1870-1920 ، شایع ہوچکا ہے۔ناشر ،گلوبل میڈیا پبلی کیشنز، نئی دہلی) ورنہ ایسے ہی نظریات و مظاہر دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور اب بھی موجود ہیں لیکن اس بنیاد پر وہاں ملت کی ایسی مسلکی و جماعتی تقسیم عمل میں نہیں آئی۔ بزرگوں کے اختلافات کو ان کے اجتہادات کا نتیجہ سمجھتے ہوئے نئی نسل کو آگے بڑھ کر وحدت ملی کے لیے کوشاں ہونا چاہیے اور اس کی دیوار میں ماضی میں پڑنے والے شگافوں کو بھرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔سوال یہ ہے کہ ہم کب تک صرف لفظی سطح پر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑنے اور بنیان مرصوص (مضبوط اساس) بننے کا قوم سے مطالبہ کرتے رہیں گے۔جب کہ ہم خود ایک قدم اس راہ پر چلنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
ذرا غور کیجیے کہا جاتا ہے کہ جس وقت شاہ بابل بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یہودی قوم کو تہہ و بالا کردیا اس وقت اس قوم کے فقہا (فریسین) کے یہاں اس طرح کے مو ضوعات پر منا ظرے ہورہے تھے کہ داڑھی کی فضیلت کے تعلق سے ایک داڑھی کے ایک بال پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟۔جب محمد الفاتح نے قسطنطنیہ پرحملہ کیا تواس وقت عیسائیوں کے درمیان مناظرے کی مجلسیں ایسی بحثوں سے گرم تھیں کہ حضرت مسیح نے عشائے ربانی میں جو روٹی کھائی تھی وہ خمیری تھی یا فطیری؟ اور 19صدی میں انگریزی استعمار مسلم حکومت کے ملبے پر اپنی حکومت قائم کررہا تھا تو اس وقت’ امکان کذب‘ (خدا جھوٹ بول سکتا ہے یا نہیں؟) اور’ امکان نظیر‘ (خدا محمد ﷺ جیسی دوسری شخصیت کو پیدا کرسکتا ہے یا نہیں) جیسی غیر ضروری اور لاحاصل بحثوں پر ہمارے فاضل علما سر دھن رہے تھے۔ہم سمجھ سکتے ہیں کہ عین ملت کی تعمیر اور دفاع کے وقت میں ہم نے کس طرح بے تیشہ ہی اپنی ملی واجتماعی دیوار کو ڈھانے کی کوشش کی۔
اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں کس طرح اس باہمی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس کے لیے ہمیں کون سا طریقۂ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم ایک دوسرے کو مشخص طور پر کافر اور بدعتی قرار دینے سے باز آئیں۔ایک شخص کا بدعتی قرار دیا جانا تو اتنا خطرنا ک نہیں ہے کیوںکہ بہرحال وہ ایسے شخص کی نگاہ میں ایک گنہگار مسلمان تو رہتا ہی ہے۔ نہایت خطرے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی فر د یا جماعت کو کافر قرار دے کر سرے سے اسے دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا جائے۔دوسرے مسلک کے کسی فرد کا جنازہ پڑھادینے یا پڑھ دینے کی بنا پرمتعلقہ اشخاص کو غیر مسلم قرار دے کران کے نکاح کو باطل اور ان کی بیوی کوان پر حرام قرار دیا جائے۔اگر بات یہاں تک پہنچ جائے تو بلاشبہ اس سے بہت بڑے فتنے کا دروا زہ کھل جاتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ افہام و تفہیم اور سنجیدہ علمی مباحثے کے دروازوں کو کھلا رکھنے کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ رد و تنقیص کے مناظرانہ عمل کے دروازوں کو بالکلیہ بند کرنے کی جانبین کی طرف سے کوششیں کی جائیں۔فریقین کے قائدانہ رول رکھنے والے اہل علم و فکر اس میں اہم کردار نبھاسکتے ہیں۔
کیا ہی بہتر ہو اگر اس مقصد کے لیے باضابطہ ایک فورم یاکسی اسلامی تنظیم کی طرف سے کوئی پروگرام وجود میں آئے جس میں دونوں جماعتوں کے سنجیدہ اہل فکر شامل ہوں اور اس کا ایک مستقل لائحہ ٔ عمل تیار کیا جائے۔ راقم الحروف سنی جماعت کے ایسےمتعدد علما واقف ہے جواس کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ہندوستان کے موجودہ حالات، خاص طور پر، انتہائی شدت کے ساتھ اس کے متقاضی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مناظرانہ کے بجائے مفاہمانہ لٹریچر کی اشاعت عمل میں آئے۔اس سلسلے میں اہم کردار ملک کی بڑی خانقاہوں کی اہم شخصیات ادا کرسکتی ہیں۔یہ بیچ کی کڑی بن سکتی ہیں۔کیوں کہ حقیقت میں ان میں سے بڑی تعداد کسی ایک مسلک سے وابستہ اور مشخص نہیں ہے۔
یہ چند باتیں دل درد مند اور فکر ارجمند رکھنے والے اصحاب علم وعمل کواس موضوع کی طرف متوجہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔ اس کامقصد کسی نظریاتی بحث کا آغاز کرنا نہیں ہے۔ اسی لیے نظریات پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ دونوں حلقوں کی طرف سے اس موضوع پر اتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور اس کا اتنا بڑا ذخیرہ تیار ہوچکا ہے کہ میرے خیال میں اب نظریاتی بحث کے حوالے سے ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری اتحاد امت کی کوششوں کوقبول فرمائے۔ آمین۔