دہشتگردی کی حقیقت اور دہشت گردی کا فسانہ !

جے این یو میں نئے کورس پر تنازعہ۔آتنک’ کو ایک خاص مذہب سے جوڑا جائے تو یہ تعلیمی دہشت گردی ہوگی‘ سرکاری، خاکی اور بھگوا دہشت گردی سے نمٹنے کی تعلیم کہاں؟

ڈاکٹر سلیم خان،ممبئی

موجودہ حکومت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو مار مار کر ہندو فرقہ پرست بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ ابھی حال میں اکادمی کونسل کی جانب سے ڈیول ڈگری پروگرام میں تعلیم حاصل کر رہے انجنیئرنگ کے طلبا کے لیے نئے ’انسداد دہشت گردی‘ کورس کو منظوری ملی ہے جس کے بعد تنازع کا دور شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کو ہوئے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں اس کورس کو منظوری مل گئی ہے۔یہ متبادل کورس ان طلبا کے لیے ہے جو جے این یو میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈیول ڈگری کے آپشن کے طور پر منتخب کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی رشتوں میں مہارت کے ساتھ ای ایس کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس میں طلباء کو یہ پڑھایا جائے گا کہ دہشت گردی سے کیسے نپٹا جائے اور اس میں عالمی طاقتوں کی کیا حصہ داری ہو؟ اس مضمون میں مذہبی دہشت گردی کے مسئلے پر یہ کہا گیا کہ’جہادی دہشت گردی‘ ہی’بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی‘کی ایک شکل ہے۔ اس طرح گویا مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ایک فسانہ گھڑنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس دہشت گردی کی حقیقت خود دیش بھکت سرکار کی این آئی اے نے مکیش امبانی کے گھر پر لگائی جانے والی بارود کی گاڑی کیس میں کھول کر رکھ دی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ۔ ملک کے سب سے بڑے صنعت کار مکیش امبانی کے گھر کے باہر بارود سے بھری گاڑی پر غالب کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
تھی خبر گرم ریلائنس کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے پر یہ دھماکہ نہ ہوا
شمال مشرقی صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنا ممکن نہیں جس کے تحت پچھلے ہفتے ۷ ٹرک جلا دیے گئے اور پانچ لوگ زندہ جل مرے۔ اسی طرح نکسل نواز علاقوں میں ہونے والے تشدد کو بھی اسلام سے جوڑنا ناممکن ہے جس میں ابھی حال میں وہ سرکاری اہلکاروں کو مار کر ان کی بندوقیں لے گئے۔ اس سے ہٹ کر اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی دھماکہ ہوجائے تو اسے بلاتکلف وتفتیش مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی نہ کوئی اسلامی تنظیم اس کے لیے ذمہ دار قرار پاتی ہے اور بہت سارے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا ہے جو برسوں پابند سلاسل رہنے کے بعد بری کردیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں پہلا استثناء مالیگاوں بم بلاسٹ کو حاصل ہے جس کی ملزم پرگیہ ٹھاکر آج ایوان پارلیمنٹ کی رکن ہے اور دوسرا سمجھوتہ ایکسپریس کا دھماکہ ہے جس کے۸ میں سے صرف ۴ ملزمان نابہ کمار سرکار، لوکیش شرما، کمال چوہان اور راجندر چودھری کو عدالت نے رہا کردیا۔ ان دھماکوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی دسمبر ۲۰۰۷ میں ماراگیا جبکہ ۳ دیگر ملزمان رام چندرا، سندیپ دینگی اور امیت فرار ہیں۔ ابتدا میں ان دھماکوں کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا لیکن کئی سال کی تفتیش کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ۲۰۱۱ء میں ہندو انتہاپسند تنظیموں کے کارکنان کو اس کیس میں نامزد کیا۔ کیا جے این یو کے طلباء کو یہ نہیں پڑھایا جائے گا ؟
این آئی اے اینٹیلیا دھماکہ خیز کیس کے ساتھ منسکھ ہیرین ( मनसुख हिरेन) قتل کیس کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی نے عدالت کے اندر اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ گزشتہ ماہ ۴؍ اگست کو این آئی اے نے عدالت میں یہ چونکادینے والا انکشاف کیا تھا کہ گواہوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں جس کے سبب بہت سے گواہ خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ کیا یہ دھمکیاں اسلامی دہشت گردی کے مراکز چین یا افغانستان سے آرہی ہیں؟ پچھلے سال ۲۵؍ مارچ کو جب ایجنسی نےمعطل شدہ پولیس افسر سچن وازے کی حراست میں ۱۵ دن کے اضافہ کا مطالبہ کیاتھا تو اس نے خصوصی عدالت سے کہا تھا کہ اس جرم سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اسے بلی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ممبئی میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر وازےنے اس وقت کہا تھا کہ وہ ڈیڑھ دن تک اس کیس کا تفتیشی آفیسر رہا حالانکہ وہ ۱۲ دن کو ڈیڑھ دن کہہ رہا تھا ۔وازے کے مطابق وہ خود این آئی اے کے دفتر گیا اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔ این آئی اے کے وکیل ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل انیل سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ یہ جان کر سب حیران ہیں کہ یہ پولیس اہلکار اس جرم میں ملوث ہے۔
یہ وہی وازے ہے جس نے خواجہ یونس کو ۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو ہوئے گھاٹکوپر بم دھماکہ کے الزام میں ۲۳؍ دسمبر ۲۰۰۲ کو گرفتارکیاتھا بعد میں اس نوجوان انجینیئر کا انکاونٹر ہو گیا ۔۲۰۰۴ میں ممبئی ہائی کورٹ نے وازے اور اس کے ساتھیوں کےخلاف تادیبی تفتیش کا حکم دیا مگر خواجہ یونس کے قتل کا مقدمہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ یونس سے متعلق سی آئی ڈی کی چارج شیٹ میں فاسٹ ٹریک عدالت نے ۱۶ سال میں صرف ایک گواہ کی گواہی لی۔ اس کے بعد سچن وازے کو۱۶سال کی معطلی کے بعد ۱۳؍ جولائی ۲۰۲۰ کو ممبئی ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر ملازمت پر بحال کرلیا گیا۔ اس طرح عدالت کے حکم کی خلاف وزری بلکہ توہین عدالت کی گئی۔ آگے چل کر امبانی کے معاملے میں سچن وازے گرفتار ہوا اور ۲۹ دن کے اندر این آئی اے نےاس کو مجرم قرار دے دیا۔ وازے کو بحال کرنے کی اگر غلطی نہیں کی جاتی تو نہ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو استعفیٰ دینا پڑتا اور نہ مَن سکھ کی جان جاتی۔ سچن وازے بھی جیل کی سلاخوں کے بجائے اپنے گھر میں عیش کررہا ہوتا۔ لیکن مشیت الٰہی کو خواجہ یونس کے انکاونٹر کا انتقام جو لینا تھا۔
سچن وازے پر اکیلے خواجہ یونس کے انکاونٹر کا الزام نہیں ہے بلکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے ۶۳ لوگوں کو ماورائے قانون قتل کیا ہے۔ اس بار این آئی اے نے سچن وازے کے ساتھ ساتھ اس کے گرو پردیپ شرما پر بھی شکنجہ کسا ہے۔ پردیپ شرما کو انکاونٹر کی دنیا کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی ۳۵ سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں ۳۰۰ انکاونٹرس کیے ہیں اور اس بات کو تو ہمارے سماج میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کہانیوں پر مختلف فلمیں بنائی جاچکی ہیں مثلاً ’اب تک چھپن‘، ستیہ اور کمپنی وغیرہ۔ معطلی کے بعد سچن وازے شیوسینا میں شامل ہوگیا تھا اور اس کو پارٹی کا ترجمان بھی بنا دیا گیا اور شرما نے بھی شیوسینا کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کا الیکش لڑنے کی خاطر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ پردیپ شرما نے سچن وازےکی ملازمت بحال کرانے کی بہت کوشش کی تھی۔ من سکھ ہیرین کے قتل سے پہلے اور بعد میں وہ سچن وازے اور اس کے ساتھی ونایک شندے کے ساتھ ربط میں تھا۔ کیا اس سرکاری دہشت گردی کو بنارس ہندو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا جائے گا؟
سچن وازے نے بڑی معصومیت سے عدالت میں کہا تھا کہ وہ تو صرف ڈیڑھ دن کے لیے تفتیش میں ملوث رہا لیکن اس دوران جو کچھ کیا گیا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے جرم کو چھپانے کی خاطر اس کے ارادے کیا تھے؟ این آئی اے اگر درمیان میں نہیں آتی اور اس کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا موقع مل جاتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور نہ جانے کتنے بے گناہ لوگ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہوتے اور ممکن ہے اسے جے این یو میں کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھایا جاتا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ان واقعات کو یاد کریں جو ۲۵ فروری ۲۰۲۰ کو بارود سے بھری مشکوک گاڑی کی دریافت کے بعد رونما ہوئے۔ ۲۶ فروری کو پتہ چلا کہ گاڑی میں کئی نمبر پلیٹیں تھیں اور ڈرائیور نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے نقاب پہن رکھا تھا۔ مکیش امبانی نے ممبئی پولیس کا شکریہ ادا کردیا۔ ۵ مارچ کو گاڑی کے مالک من سکھ ہیرین کی لاش ملی اور بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈنویس نے این آئی اے کے ذریعہ تفتیش کا مطالبہ کردیا ۔ اگلے دن ہنس مکھ کی بیوی وملا نے قتل کا الزام لگا دیا اور معاملہ این آئی اے کے پاس چلا گیا۔
اس معاملے کو الجھانے کی خاطر یکم مارچ کو جیش الہند نامی ایک تنظیم نے اس کی ذمہ داری لی، بِٹکوئن کے ذریعہ روپیوں کا مطالبہ کیا۔ گاڑی میں ملے خط میں لکھا تھا ’’خدا کے فضل سے جس بھائی نے امبانی کے گھر کے باہر ایس یو وی کھڑی کی تھی وہ صحیح سلامت گھر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تو صرف ایک ٹریلر تھا اور اب بڑی پکچر آنے والی ہے۔ ہم تمہارے سب سے خوفناک خواب ہیں ۔ ہم تمہارے آس پاس موجود ہیں۔ ہم تمہارے آفس میں کام کرتے ہیں ۔ ہم ایک عام آدمی کی طرح تمہارے آس پاس سے گزرتے ہیں۔ ہم ہر جگہ موجود ہیں۔ ہمیں تمہارے جیسے کارپوریٹ پراسٹیٹیوٹ سے پرابلم ہے جنہوں نے اپنی آتما بی جے پی اور آر ایس ایس کو بیچ دی ہے۔‘‘ آگے للکارتے ہوئے لکھا تھا ’’روک سکتے ہو تو روک لو ۔ تم کچھ نہیں کرپائے تھے جب ہم نے تمہاری ناک کے نیچے دہلی میں تمہیں ہِٹ کیا تھا تم نے موساد کے ساتھ ہاتھ ملایا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اللہ کے رحم وکرم سے تم بار بار ناکام ہوگے۔‘‘ آخر میں لکھا تھا ۔ ’’نیتا بھابی اور مکیش بھابی اور پریوار! اگر آپ لوگ ہماری مانگیں نہیں مانتےتو اگلی بار یہ ایس یو وی آپ کے ’فیٹ کڈس‘ کی کار پر چڑھ جائے گی۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ جو آپ سے کہا گیا ہے وہ رقم آپ ٹرانسفر کردو اس کے بعد آپ کے فیٹ کڈس خوشی سے جی سکیں گے۔‘‘
این آئی اے کی تفتیش میں پتہ چلا کہ سچن وازے نے اس معاملے کو انڈر ورلڈ ڈان داود ابراہیم سے جوڑ کر اہلکاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کو داود کے ساتھی سبھاش سنگھ ٹھاکر پر شک ہے کہ اس کے ذریعہ جیش الہند کے نام سے وہ پیغام بھجوایا گیا۔ ٹھاکر ممبئی کے جے جے شوٹ آوٹ کے زمانے میں ممبئی میں تھا مگر فی الحال وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب وارانسی کی جیل میں ہے۔ اس کارستانی کے دوران وہ بی ایچ یو اسپتال میں علاج کے لیے بھرتی تھا۔ ٹھاکر سے کہا گیا کہ وہ دبئی سے پیغام بھجوائے مگر اس نے تہاڑ جیل میں مبینہ ‘انڈین مجاہدین‘ سے منسلک اپنے گرگے تحسین اختر سے پیغام بھجوا دیا۔ اختر کا نام ۱۳ جولائی ۲۰۱۱ کے ممبئی بم دھماکوں میں شامل ہے۔
پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے ایک نجی ادارے سے اس کی تحقیق کروائی لیکن اپنے کسی اہلکار کو تہاڑ جیل نہیں بھیجا۔ یہ پیغام جب عام ہوگیا تو سچن وازے ڈر گیا کہ کہیں قومی تفتیشی ایجنسی درمیان میں نہ آجائے اس لیے ایک دن بعد ’جیش الہند‘ کی طرف سے تردیدی بیان بھجوایا گیا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیا یہ زعفرانی دہشت گردی یا خاکی دہشت گردی نہیں ہے؟
یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے لیکن ۲۷ دنوں کی کڑی پوچھ تاچھ کے بعد این آئی اے کو یہ بھی پتہ چلا کہ سچن وازے جیلیٹن کیس کے بعد ایک انکاونٹر کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس میں کچھ غیر متعلق لوگوں کا ماورائے قانون قتل کرکے اس پورے معاملے کو ان کے سر ڈال کر فائل بند کردینے کا ارادہ تھا۔ اس انکاونٹر کے لیےاورنگ آباد سے ماروتی ایکو کار کو چرالیا گیا تھا۔ این آئی اے کو شبہ ہے کہ اس انکاونٹر میں من سکھ ہیرین کو بھی شکار بنایا جاسکتا تھا ۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ دہلی کے ایک مجرم پیشہ شخص کو بھی اس انکاونٹر میں ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا لیکن اس سے قبل این آئی اے درمیان میں آگئی اور سچن وازے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ اب ذرا تصور کریں کہ اگر سچن وازے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوجاتا تو پالتو میڈیا اس معاملے کو کس قدر اچھالتا اور سارے مسلمانوں کو کیسے میڈیا ٹرائل کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ؟
۱۴؍مارچ ۲۰۲۰ کو شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان سنجے راوت نے سچن وازے کی وکالت کرتے ہوئے اس معاملے میں مرکزی ایجنسی کی ضرورت کومسترد کردیا تھا۔ نیوزایجنسی اے این آئی سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ سچن ایک ایماندار اور قابل افسرہیں ان کو ایک مشکوک کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ ممبئی پولیس کو اس کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی ۔انہوں نے کہاتھا کہ اس کے لیے کسی مرکزی ٹیم کی ضرورت نہیں ہے۔سنجے راوت نے جس افسر کو ایمانداری کے سپاس نامہ سے نوازا ہے اس کے پاس این آئی اے کو کئی لاکھ نقد اور بنک میں ڈیڑھ کروڑ کا سرمایہ ملا۔ این آئی اے کے مطابق سچن وازے کو ۳۰ گولیاں دی گئیں ان میں سے ۲۵ غائب تھیں جبکہ اس کے پاس ۶۲ بے نامی گولیاں تھیں۔ این آئی اے کو یہ بھی پتہ چلا کہ اس نے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں ایک جعلی آدھار کارڈ کی مدد سے ۱۰۰ دنوں تک کمرہ مختص کرنے کی خاطر ۱۲ لاکھ روپیوں کی ادائیگی کی تھی ۔
مہاراشٹر کے اندر اگر مہاوکاس اگھاڑی کے بجائے شیوسینا اور بی جے پی کی حکومت ہوتی تو مرکزی حکومت سنجے راوت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے این آئی اے کو روک دیتی اس لیے کہ اس صورت میں خود اس ریاستی حکومت کی بدنامی ہوتی۔ ایسے میں اپنے سیاسی فائدے کی خاطر کس طرح ایک خطرناک مجرم بچ نکلتا اور بے قصور لوگ پھنس جاتے۔ لیکن خیر شیوسینا کی دشمنی میں دیش بھکت بی جے پی نے مرکز سے این آئی اے کو بھیج دیا اور اس طرح یہ سازش ناکام ہوگئی۔ اس معاملے میں این آئی اے نے ۲۰۰ گواہوں سے تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد ۱۰؍ پولس افسروں پر یو اے پی اے کے تحت الزامات لگائے ہیں۔ اس تفتیش کے مطابق سچن وازے اس سازش کے ہر معاملے میں شریک ہے۔ وازے خود گاڑی چلا کر لے گیا اور وہ ہنس مکھ ہیرین کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ کیا اس سرکاری دہشت گردی کو بھی جہادی تشدد سے منسوب کیا جائے گا؟
***

 

***

 مہاراشٹر کے اندر اگر مہاوکاس اگھاڑی کے بجائے شیوسینا اور بی جے پی کی حکومت ہوتی تو مرکزی حکومت سنجے راوت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے این آئی اے کو روک دیتی اس لیے کہ اس صورت میں خود اس ریاستی حکومت کی بدنامی ہوتی۔ ایسے میں اپنے سیاسی فائدے کی خاطر کس طرح ایک خطرناک مجرم بچ نکلتا اور بے قصور لوگ پھنس جاتے۔ لیکن خیر شیوسینا کی دشمنی میں دیش بھکت بی جے پی نے مرکز سے این آئی اے کو بھیج دیا اور اس طرح یہ سازش ناکام ہوگئی۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 12 ستمبر تا 18 ستمبر 2021