درسیات کی تیاری‘، اداروں کے معیار کی بہتری‘ ’تحقیقی شعبہ ‘ کا قیام اولین ترجیح

تعلیم کے ذریعہ خاص کلچر کے نفاذ کی کوشش ناقابل قبول ۔ ملت کی تعلیمی ضرورت کی تکمیل کے لیےوفاق کی تشکیل بے حد اہم

مرکزی تعلیمی بورڈ کے صدر مجتبیٰ فاروق کے ساتھ مشرف علی کی خاص بات چیت
جماعت اسلامی ہند کے تحت کئی ادارے اور ذیلی تنظیمیں کام کررہی ہیں ۔ رواں میقات میں جماعت نے ایک مرکزی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے جو تعلیم اور نظام تعلیم سمیت نصاب کی تیاری اور دیگر اہم امور پر کام رہا ہے ۔ اس سلسلے میں کیا کیا پیش رفت ہوئی ہیں اس بارے میں تعلیمی بورڈ کے صدر محترم مجتبیٰ فاروق صاحب کے ساتھ ہفت روزہ کانتی کےسب ایڈیٹر مشرف علی نے خاص بات چیت کی ہیں۔ ذیل میں اس کےکچھ اہم حصے ہفت روزہ دعوت کے قارئین کی خدمت میںپیش کیے جا رہے ہیں ۔
سوال : مرکز جماعت اسلامی ہند میں دیگر شعبہ جات کی طرح تعلیم کا بھی ایک شعبہ ہوا کرتا تھا،نئی میقات میں تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا ہے، اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور اس کے پیش نظر کیا اہداف ہیں؟
کوئی بھی تحریک ایک نظریے کے بغیر کھڑی نہیں ہو سکتی اور نظریے کے لیے ضروری ہے کہ کیڈر کی ذہن سازی کی جائے ۔ تحریک اسلامی کی یہ کوشش رہی ہے کہ صرف ہمارے کیڈر ہی کو نہیں بلکہ پوری ملت کو جو کہ ہمارا سرمایہ ہے اسے اس فکر اور نظریے سے آشنا ہو نا چاہیے ۔ تعمیر معاشرہ کے لیے تعلیم وہ شعبہ ہے جو ترجیحی طور پر توجہ کا تقاضا کرتاہے۔ جماعت اسلامی ہند نے اول روز سے ہی اس کی تکمیل پر توجہ دی ہے ۔ ہمارے پہلے قیمِ جماعت جناب افضل حسینؒ جو ایک ماہر تعلیم تھے انہوں نے درسیات کی کتابیں تیار کیں جو آج بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ افضل حسین صاحب شعبہ تعلیم کے ذمہ دار بھی تھے ۔ ان کے بعد اشفاق احمد مرحوم نے یہ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مرحوم افضل حسینؒ کے کام پر نظر ثانی کا کام کیا اور اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا ۔
موجودہ میقات میں شوریٰ نے یہ محسوس کیا کہ تعلیم وسیع الاطراف اور موثرمیدان ہے اس کے تقاضے بھی اس مناسبت سے ہیں لہٰذااس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے ۔ اس غور و خوض کے نتیجے میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا اور امیر جماعت اس بورڈ کی نگرانی خود کررہے ہیں ۔ بورڈ کا چیئرمین نصرت علی صاحب کو بنایا گیا تھا۔ اللہ کی مشیت تھی کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، ان کی رہنمائی میں بورڈ کا خدوخال تیار ہو گیا تھا۔ اس پر مزید کام کرنے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ مرکزی تعلیمی بورڈ صرف جماعت اسلامی ہند کا ہی نہیں بلکہ ملت کا ایک نمائندہ ادارہ بن جائے ۔
ہاؤس میں بحث کے بعد بورڈ کا منصوبہ بناکر ہم نے اس میں کئی چیزیں شامل کی ہیں۔ ان کاموں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں عظیم ملت کا کوئی نمائندہ بورڈ نہیں ہے اور فی الوقت اس کی تشکیل بھی کوئی آسان کام نہیں ہے تاہم اس پر غور کر رہے ہیں کہ موجودہ بورڈ کو اس حیثیت سے فروغ دیا جائے ۔
دورجدید میں الگ الگ سبجیکٹس کی لیباریٹری کا معاملہ بھی اہمیت کا حامل ہے ، یہاں تک کہ لسانیات کا موضوع بھی دارالتجربہ بننے لگا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملکی سطح پر اساتذہ سے کوآرڈینیٹ کرکے سبجیکٹس کے بھی پول بنائیں۔
ٹیچرس کی فیڈریشن کے طور پر آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی ایشن (آئیٹا) موجود ہے جس کے ذریعے ہم ٹیچروں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتے اور ان کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔
جماعت میں مختلف سطحوں پر اسکالرشپ کا بھی نظم ہے لیکن یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ اگر ہم اسکالرشپ کے بجٹ کو چند کروڑ تک بھی لے آئیں تب بھی اتنی بڑی ملت کی ضرورتوں کے لیے یہ ناکافی ہوگا ۔ اس کے لیے ہم نے ایک ادارہ تیار کیا ہے جو ضرورت مند طلبہ کی تمام طرح کی اسکالرشپ کے لیے رہ نمائی کرتا ہے اور اس کے حصول میں ان کی پوری مدد کرتا ہے ۔
اس طرح سے اور بھی کئی امور زیر بحث ہیں، جن پر جلدہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور انہیں منصوبہ میں شامل کر لیا جائے گا ۔
سوال : مرکزی تعلیمی بورڈ کےچار سالہ منصوبے کے چھ اہداف ہیں، جن میں سے پہلے تین اہداف ہیں، ’درسیات کی تیاری‘، تعلیمی اداروں کے معیار کی بہتری‘ اور ’تحقیقی شعبہ ‘ کا قیام۔ ان تینوں اہداف کے حصول میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
جہاں تک درسیات کی تیاری کا تعلق ہے تو یہ جماعت اسلامی کا ایک دیرینہ کام ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ مرکزی مکتبہ بنیادی طور پر تحریکی لٹریچر اور درسیات کی تیاری کے لیے ہی قائم کیا گیا تھا۔ آج بھی اس کایہی کام ہے ۔ مرکزی مکتبہ سے شائع شدہ درسیات کئی ریاستوں میں کافی مقبول ہیں۔
درسیات کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام مسلسل جاری ہے ،اس میقات میں موجودہ درسیات پر نظر ثانی کا کام بھی ہو رہا ہے ۔
جب سے ملک کی تعلیمی پالیسی تبدیل ہوئی ہے تب سے تعلیمی شعبے میں کافی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جس پارٹی کی بھی حکومت ہو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی فکر اور اپنے نظریے کو عام کرے اور تعلیم ہی وہ میدان ہے جس کے ذریعے یہ کام کیا جا سکتا ہے ۔ خاص طور سے اس وقت جو پارٹی اقتدار میں ہے وہ ایک متشدد نظریہ وافکار کی حامل ہے، اس کا طریق کار بھی انتہائی جارحانہ ہے۔ ملک کا دستور اپنی جگہ ہے جس کے مطابق ہمارا ملک ایک سیکولر ریاست ہے جہاں حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہے اور عوام کے لیے مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن حکومت ایک خاص مذہب اور خاص تہذیب کوجبراً ملک کے عوام پر نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ نئی پالیسی
حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی میں 2+10 کی جگہ (4)+3+3+5 سسٹم کا نفاذ کیا جا رہا ہے، تو کیا ہماری درسیات اس سسٹم کے مطابق ہیں؟
کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے مقرر وقت پر سامنے آتی ہیں۔اسکول کی اصل تعلیم پہلی جماعت سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کی جو کلاسیں ہیں ان کا مقصد محض بچوں کو تعلیم سے مانوس کرنا ہے۔ اب 2+10 ہو یا 4+3+3+5 کل ملا کر مدت تو برابر ہی ہے، کہیں نرسری کو شمار کرتے ہیں تو کہیں نہیں کرتے۔یوں اس تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے، لیکن جو طریقہ کار بھی ہوگا ہم اس کا لحاظ رکھیں گے۔
مدارس میں بھی ہماری کوشش یہ ہے کہ انہیں عصری درسگاہوں کے بالمقابل لایا جائے تاکہ بچہ جس مرحلے میں چاہے مدرسہ سے عصری درسگاہ کی طرف منتقل ہو جائے۔یعنی بچہ اگر پہلے 8 سال تک مدرسہ میں تعلیم حاصل کرے تو وہ اسکول کی آٹھویں جماعت کے برابر ہو جائے اس کے بعد اگر وہ چاہے تو کسی اسکول میں نویں جماعت میں داخلہ لے لے۔ اسی طرح اگر وہ مدرسے میں 12 سال پڑھ لے تو اسے کالج میں داخلہ مل جائے۔
سوال : وزارت تعلیم کے ذریعے جس نصاب کی تیاری کی جا رہی ہے وہ تعلیم کا بَھگوا کَرن ہے۔ تاریخی حقائق پر پردہ ڈال کر من گھڑت قصے داخلِ نصاب کیے جا رہے ہیں۔اخلاقیات کے نام پر معصوم ذہنوں کو متشدد ہندو لیڈروں کے افکار وخیالات سے مسموم کیا جا رہا ہے۔ اس زہر کے تریاق کے لیے مرکزی تعلیمی بورڈ کا کیا منصوبہ ہے؟
جماعت، بلکہ پوری ملت اور تمام اقلیتیں ابتدا سے ہی اس معاملےمیں بڑی حساس واقع ہوئی ہیں کہ دوسروں کو دبا کر زبردستی کسی ایک کلچر کے نفاذ کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ منصفانہ طریقہ سے کام کیا جائے۔ ابھی حال ہی میں این آئی او ایس (NIOS) میں ویدک تعلیم کو ایک سبجکٹ کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ہم نے حکومت کے سامنے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے اختیاری مضمون کی حیثیت سے ویدک تعلیم کی شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ چوں کہ ہمارا ملک مختلف تہذیبوں و تمدن کا گہوارا ہے اس لیے دیگر مذاہب کی تعلیمات کو بھی اس میں شامل کیا جائے مثلاً اسلام بودھ، جین اور سکھ وغیرہ جس کو جس سبجکٹ میں دلچسپی ہوگی وہ اسے اختیار کر لے گا۔ہم حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرارہے ہیں کہ ایک مذہب کی نہیں بلکہ تمام مذاہب کی بات کی جائے۔
ہماری کوشش یہ بھی ہے کہ ہم ٹیچرس کو صحیح تعلیم کی جانب متوجہ کریں۔انہیں بتائیں کہ نصاب میں کہاں ڈنڈی ماری گئی ہے لہٰذا بچوں کو نصاب سے الگ صحیح تعلیم دی جا سکے۔یہ معاملہ چوں کہ تمام اقلیتوں کا ہے اس لیے ہم اسے جماعت کی حدود تک رکھنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اس پر تمام اقلیتوں کا معاملہ بنا کر کام کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کے لیے بایاں گروپ بہت سنجیدگی سے کام کرتا ہے، اسی طرح سنگھ کے لوگوں نے ’اتہاس پریشد‘ بنایا ہے۔ ہم بھی ایسا ایک پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں تاکہ اس پہلو سے نظر رکھی جا سکے۔
سوال : حکومت ہند اب تعلیم کو بھی پوری طرح خانگیانے کرنے جا رہی ہے۔ظاہر ہے کہ اس سے تعلیم کا حصول مزید مہنگا ہو جائے گا۔ تعلیم کو عوام کی دسترس میں رکھنے کے لیے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟
تعلیم کا حق ہمارے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے ،لہٰذا تمام شہریوں کے لیے مفت تعلیم کا نظم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جماعت ابتدا سے ہی اس کے لیے کوشش کرتی رہی ہےاور حکومت سے تعلیم میں اضافے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ہماری کوشش تو یہ ہے کہ تعلیم کا ایک ہی سسٹم ہو یعنی حکومت کے اسکولس ہوں جہاں معیاری تعلیم دی جائے، وہاں امیر کا بچہ بھی پڑھے اور غریب کا بچہ بھی۔لیکن مجبوری یہ ہے کہ یہاں دو سسٹمس موجود ہیں اس لیے ہم لوگوں کو توجہ دلاتے رہیں گے تاکہ دونوں سسٹمس بہتر طریقے سے کام کریں۔تعلیم کا پرائیوٹ سسٹم استحصال پر مبنی ہے ہم نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دو سسٹمس نہ رہیں بلکہ صرف ایک ہی سسٹم باقی رہے۔
سوال : طلبہ کو گزشتہ دو سالوں کے دوران آن لائن تعلیم کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ اب اس طریقہ کار کو جاری رکھنے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں ۔ مرکزی تعلیمی بورڈ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟
کچھ چیزیں حالات سے مجبور ہو کر اختیار کرنی پڑتی ہیں، ان میں اچھائی بھی ہو سکتی ہے اور برائی بھی۔ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اچھائی کو بھی اچھی طرح نہیں برتا جاتا، بلکہ اسے بھی برائی بنا دیا جاتا ہے۔آن لائن ٹیچنگ کا معاملہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو سہولتیں میسر ہیں وہ گلوبل ولیج میں ماہرین سے کبھی بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔لیکن عام لوگوں کے لیے یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ہر کوئی اسمارٹ فون، انٹرنیٹ کنکشن،آن لائن تعلیم کی ماہانہ فیس اور دیگر اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ جس ملک کی ایک بڑی آبادی کو دو وقت کا کھانا میسر نہ ہو اسے آن لائن تعلیم کے لیے مجبور کرنا اس کی غربت کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے۔بورڈ نے اس صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام طلبہ کو انٹرنیٹ کی مفت سہولتیں اور ٹیبس فراہم کیے جائیں۔ ہم نے حکومت
سے یہ بھی کہا ہے کہ آن لائن تعلیم ایک حد تک ہی مفید ہے لیکن اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
عظیم پریم جی کی فاؤنڈیشن کا ایک تازہ سروے آیا ہے جس کے مطابق80-70 فی صد بچے ریاضی اور ادب جیسے سبجکٹ بھولنے لگے ہیں۔اس لیے کہ آن لائن تعلیم میں ان کی مشق نہیں ہو پاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے تمام سبجیکٹس کو آف لائن کر دیا جائے، البتہ کچھ چیزوں کو آن لائن بھی رہنے دیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو چیز مفید ہے وہ ضرور باقی رہے، لیکن نقصاندہ چیزوں کی تلافی کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔
( انٹرویونگار مشرف علی کانتی کے سب ایڈیٹر ہیں )
***

 

***

 مدارس اور اقلیتی اداروں کے لیے درسیات کی تیاری کا بھی ہدف ہے۔ حالانکہ برسر اقتدار جماعت کی کوشش تو یہ ہے کہ ملکی دستور کا آرٹیکل 30جو اقلیتوں کو خصوصی اختیارات دیتا ہے، اسے بھی کسی طرح ختم کردیا جائے ۔ اس کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے جارہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر سائنس جیسے مضامین کو بھی مدارس کے نصاب میں شامل کریں۔ ہم مدارس کے اکابرین سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں، یہ جاننے کے لیے اس کے نظام تعلیم میں کیا ترمیم کی جاسکتی ہے جس سے کہ وہ حالات کے مطابق بن جائے اور ہمارا مقصد بھی متاثر نہ ہو۔ ان شاء اللہ جلد ہی اس سلسلے میں قابل لحاظ تبدیلی سامنے آئے گی ۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 10 تا 16 اکتوبر 2021