ایف ڈی سی اے نے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ پولرائزیشن پر تشویش کا اظہار کیا

نئی دہلی، جنوری 27: گذشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ پولرائزیشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فورم برائے جمہوریت اور فرقہ وارانہ اتحاد (ایف ڈی سی اے) کے زیر اہتمام ایک ویبiنار میں شریک افراد نے کہا کہ پولرائزیشن میں اضافہ ملک کے مستقبل کی ترقی کے لیے خطرہ ہے۔

ایک سابق سفارتکار اور ایف ڈی سی اے کے قومی صدر مچکنڈ دوبے نے کہا کہ اقلیتوں کو ہراساں کرنا اور انھیں مذہبی پولرائزیشن کے ہتھیار کے ذریعہ تشدد کا نشانہ بنانا ایک اہم ایجنڈا بن گیا ہے، جو ملک کے لیے ناخوشگوار ہے۔ انھوں نے کہا بڑھتے ہوئے مذہبی پولرائزیشن کے نتیجے میں اقلیتیں ملک میں غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ عوام اب بھی ملک کے جمہوری اور آئینی اقدار کی بحالی کے لیے موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

دنیا کے متعدد ممالک میں مذہبی پولرائزیشن کے مظاہر کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایف ڈی سی اے مہاراشٹر کے صدر رام پنیانی نے کہا کہ ہندوستان میں ہندو مذہب کے نام پر جس پولرائزیشن کو ہوا دی جارہی ہے اس کا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہ کچھ دائیں بازو کے گروہ ہیں، جو جذباتی نعروں کے ذریعے پولرائزیشن کر رہے ہیں۔ پنیانی نے کہا کہ یہ دائیں بازو کے گروہ ہیں، جنھوں نے پورے ملک میں ایودھیا کا معاملہ اٹھا کر اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلائی۔

یہ کہتے ہوئے کہ قوم کے کثیر الثقافتی کردار کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، کیرالہ کے ایف ڈی سی اے صدر سکوماران نے نشاندہی کی کہ ملک میں ثقافتی پولرائزیشن کو ختم کرنے کی وجہ سے ملک ایک خطرناک فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی طرف جارہا ہے۔

قانونی اور آئینی ماہر فیضان مصطفی نے کہا کہ ملک میں ایسی فضا پیدا ہوگئی ہے کہ پارلیمنٹ میں حلف لینے کے دوران ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کی مذہبی نعرہ بازی کرنا، چاہے وہ ’’جے شری رام ہو یا اللہ اکبر‘‘ آئین کے منافی ہے۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کی مذہبی تقسیم سے گریز کریں۔

یہ بتاتے ہوئے کہ ’’مذہبی فرقہ واریت استحصال کا ایک آلہ ہے‘‘، مغربی بنگال ایف ڈی سی اے کے صدر جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے گانگولی نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک سیکولر قوم ہے اور ملک کے ہر شہری کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ لہذا کسی کو بھی دوسرے کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن اقتدار میں بیٹھے افراد نے ہندو راشٹر کا نعرہ لگا کر لوگوں کا استحصال کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہندوستان کو صرف فرقہ وارانہ اور مذہبی پولرائزیشن کا سامنا نہیں ہے بلکہ کئی دیگر امور پر بھی تقسیم کا سامنا کرنا پڑا ہے، گجرات ایف ڈی سی اے کے صدر دنکیش اوزا نے کہا کہ ملک تب ہی مضبوط ہوسکتا ہے جب ہر برادری اور مذہب کو عزت دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پولرائزیشن ہی ملک کو ایک تاریک مستقبل کی طرف لے جائے گی۔

راجستھان ایف ڈی سی اے کے صدر سوائی سنگھ نے کہا کہ ملک میں ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس نے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ ملک میں مذہبی پولرائزیشن کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ’’یہ بہت خطرناک ہے۔ کسان دو ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج کررہے ہیں۔ سرحدوں پر تناؤ ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات ہیں۔ لیکن حکومت صرف ہندو راشٹر کے اپنے ایجنڈے پر مرکوز ہے۔‘‘

اپنی اختتامی تقریر میں ایف ڈی سی اے کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ ملک کو ماضی میں بہت زیادہ سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن جو لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئین کو مانتے ہیں ان کو دلیری کے ساتھ ان چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور وہ جمہوری اقدار کے تحفظ میں کامیاب ہوئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ لوگوں کی کوششوں کے ساتھ اس بار بھی بہتری لائی جائے گی۔‘‘