آہ! نصرت علی صاحب

سادہ مزاجی،خلوص وللہیت کے پیکر تحریکی رہنما کی رحلت

پروفیسر ایاز احمد اصلاحی، لکھنو

 

ایک درد ہے جو جاتا نہیں، ایک سلسلہ رنج و غم ہے جو ٹوٹنے کو تیار نہیں ہے، ہر سمت خبر غم ہے اور طرف باد

ایک درد ہے جو جاتا نہیں، ایک سلسلہ رنج و غم ہے جو ٹوٹنے کو تیار نہیں ہے، ہر سمت خبر غم ہے اور طرف باد سموم کے جھونکے ہیں، پتہ نہیں کرونا نامی موجودہ  طوفان کتنے اور شجرہائے سایہ دار سے ہمیں محروم  کرے گا۔ میرے لیے نصرت علی صاحب کی رحلت تازہ غموں اور حال کے بڑے صدمات میں سے ایک ہے۔
جناب نصرت علی صاحب مرحوم و مغفور ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تحریک اسلامی کے سپرد کردی تھی، جماعت اسلامی ہند کی طلبہ تنظیم ایس آئی او کے واسطہ سے تحریک کے کارواں میں شامل ہوئے اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مغربی یو پی سے تعلق تھا لیکن لہجے میں بلا کی نرمی اور طبیعت میں حد درجہ منکسر المزاجی تھی۔ یو پی میں طلبہ تنظیم کے ذمہ دار رہے اور جماعت میں شامل ہوئے تو یکے بعد دیگرے بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے سر پر آتا چلا گیا۔ اس طرح جماعت اسلامی ان کا کلچر، ان کا ماحول، ان کے عناصر ترکیبی کا ایک جزو لاینفک اور ان کی زندگی بن گئی۔ وہ یکم جنوری 1957 میں میرٹھ کے قصبہ کٹھور میں پیدا ہوئے۔ ایم اے پولیٹیکل سائنس تک تعلیم حاصل کی، کچھ دن مدرسی کی لیکن بالآخر جماعت اسلامی میں اپنی جوانی ہی نہیں پوری عمر گزار دی، موت بھی اسی کے پہلو میں آئی اور نماز جنازہ بھی اسی کے احاطے میں ادا کی گئی۔ کاش جماعت کے ایسے جاں نثاروں کی روحوں کو آخری آرام گاہ کے لیے جماعت کے کیمس میں ہی دو گز زمین مل جاتی تو شاید تحریک کی نئی نسل کو انہیں یاد رکھنے اور ان سے inspiration لینے کا زیادہ موقع ملتا۔ بہر حال تحریک میں شامل ہونے کے بعد وہ کسی نہ کسی منصبی ذمہ داری کے تحت اپنی بے سروسامانی کے ساتھ زندگی بھر سفر میں رہے اور آج جب جہانِ آخر سے بلاوا آیا تو ایک بار بھر اپنی اسی پرانی سادگی و بے سروسامانی کے ساتھ آخری سفر پر نکل گئے۔

سبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراں
پہاڑ اس کے ضربوں سے ریگ رواں
سفر   اس کا  انجام و  آغاز  ہے
یہی اس کی تقویم  کا  راز  ہے

 

انہیں ابتدا سے ہی مختلف سطح پر جماعتی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع ملا۔ وہ یو پی میں جماعت کے فلاح عام سوسائٹی کے برسوں سکریٹری رہے، اس ذمہ داری نے ان کے دینی، سماجی اور تنظیمی تجربات میں اضافہ کیا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اس سوسائٹی کو مستحکم و مضبوط کرنے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اس کے بعد 1995 تا 2003 وہ متحدہ یو پی کے امیر حلقہ رہے۔ ایک وسیع دائرے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے انہیں نہ صرف اپنے تجربات کو بھی وسیع کرنے کا موقع ملا بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں امارت حلقہ کی ذمہ داری نے ایک مربی وقائد کے طور سے اپنی فطری صلاحیتوں کو صیقل کرنے میں بھی ان کی بھر پور مدد کی۔ ان کا تحریکی وتنظیمی شعور ابتدا سے ہی بہت پختہ تھا، اسے پختہ تر کرنے میں ان کے خصوصی منٹر (مربی) مولانا شفیع مونس کا خاص حصہ تھا۔ انہیں جاننے والے جانتے ہیں کہ جماعت سے ان کی وابستگی محض اخلاص و للّٰہیت پر مبنی تھی، یہ وابستگی مکمل یکسوئی ودل بستگی اور عشق وسر مستی کی سطح تک پہنچی ہوئی تھی۔ ان کی انہی خصوصیات کو دیکھ کر قائدین جماعت کی نظر انتخاب ان پر پڑی اور وہ دہلی میں واقع مرکز جماعت اسلامی ہند بلا لیے گئے، یہاں انہیں 2003 سے 2007 تک پہلے ملکی سطح کے سکریٹری کے منصب پر رکھا گیا، اس کے بعد، 2007 میں انہیں مولانا جلال الدین عمری کے عہد میں امیر جماعت کے بعد جماعت کی دوسری بڑی ذمہ داری یعنی قیم جماعت (سکریٹری جنرل) کی ذمہ داری سونپی گئی جسے انہوں نے توقعات کے مطابق بڑے اعتماد و خوش اسلوبی سے نبھایا، اس ذمہ داری پر وہ 2015 تک برقرار رہے۔ اگلی میقات (2015 تا 2019) میں انہیں نائب امیر جماعت کے اہم عہدے پر فائز کیا گیا اور رواں میقات میں جماعت کے تعلیمی بورڈ کے صدر کے طور سے اپنی خدمات ادا کرتے ہوئے 2 مئی 2021 کو وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔

طویل تحریکی تجربہ، مزاج کی فطری سنجیدگی اور مسائل پر غور کرنے کے مخصوص انداز کی وجہ سے انہیں مسلمانوں کی بڑی ملی تنظیموں، جیسے مشاورت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ وغیرہ، میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان اداروں کے اہم اجلاسوں میں انہوں نے وسعت نظر، اصابت رائے اور مومنانہ فراست کا بارہا ثبوت پیش کیا اور کہیں بھی تحریکی نمائندگی کو ناقص یا نا پختہ نہیں رہنے دیا بلکہ ان سبھی مقامات پر  انہوں نے اپنی درویشانہ سادگی، اخلاص اور پختہ و کامل ملی شعور و آگہی کی ایک گہری چھاپ
چھوڑی۔ ان اداروں میں جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے احباب کے قلب و ذہن پر کتنے مثبت اثرات چھوڑے ہیں اس کا اندازہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے موجودہ صدر جناب نوید حامد صاحب کے ان جملوں سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے نصرت صاحب کی وفات پر "زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے” کی سرخی کے ساتھ اپنے تعزیتی پیغام میں لکھے ہیں بقول ان کے:
"محترم حضرت نصرت علی صاحب۔۔۔۔ کی رحلت ملت اسلامیہ ہند کے لیے ایک ایسا نقصان ہے جس کو آنے والے دور میں شدت سے محسوس کیا جاتا رہے گا۔۔۔
آپ کی سادہ لوحی (مراد سادگی و سادہ مزاجی) شائستگی، انکساری، اسلامی و سماجی علوم کا وسیع مطالعہ، ملت کے لیے تڑپ، سیاسی و سماجی سوجھ بوجھ، مکالمہ کا ہنر، اصولوں کی پابندی نے آپ کی ذات کو ملی قیادت میں ایک منفرد مقام عطا کیا تھا۔
بیس برسوں سے زیادہ اپنے قریبی مراسم کے مشاہدہ کی روشنی میں احقر نے ایسا سادہ لوح (یعنی سادہ مزاج) ملی قائد نہیں دیکھا”
کلیاریٹی آف دی کنسپٹ (تصور میں واضحیت) کسی بیدار مغز انسان کی بہت بڑی خصوصیت مانی جاتی ہے، یہ امتیاز اس شخص کے پاکیزہ و شفاف باطن ہی نہیں بلکہ اس کے مزاج کے استقلال اور فکر و نظر کی شفافیت و بے آمیزی پر ایک بین شہادت ہوتا ہے۔ نصرت صاحب کو یہ دولت بھی حاصل تھی، وہ تقریر کر رہے ہوں، سوالات کا جواب دے رہے ہوں، ملی یا تنظیمی اجلاسوں میں رائے زنی کر رہے ہوں یا ذاتی ملاقاتوں میں آپ سے اپنا نقطہ نظر شیئر کر رہے ہوں ان کا موقف ہر جگہ دو اور دو چار کی طرح واضح و قطعی نظر آتا، نہ کہیں کوئی الجھاؤ ہوتا اور نہ کسی قسم کا غموض و التباس۔ موقع کوئی بھی ہو اور مجمع جتنا بھی بڑا ہو، ہمیں ان کا نظریہ سمجھنے اور ان کے مقصد کلام تک پہنچنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی، واضح رہے یہ بڑی خاصیت بھی ایک پختہ ذہن اور وسیع مطالعہ و مشاہدہ کے علاوہ ایک ایسے تصور زندگی کی دین ہوتی ہے جو انسان کا مشن ہی نہیں اس کی حیات کا حصہ بن چکا ہو اور سوتے جاگتے وہ اس کے قلب وذہن میں جاگزیں رہتا ہو۔ میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر اس بات کا گواہ ہوں کہ یہ خصوصیت بھی ان کی ایک شناخت تھی جو ان کے جچے تلے جملوں ہی سے نہیں بلکہ ان کے چہرے پر موجود بلا کی خود اعتمادی سے بھی جھلکتی رہتی تھی۔
ہر وہ شخص جو اپنے دینی و سماجی علم، مسلسل مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ سے اپنی شخصیت کو ارتقاء بخشتا ہے وہ مسائل کو نظر انداز نہیں کر سکتا بلکہ ان پر اپنی ایک متعین رائے رکھتا ہے، نصرت صاحب کچھ ایسے ہی فرد تھے۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ بالخصوص ان تین مسائل پر ان کا ذہن بہت واضح اور فکر بہت صاف تھی اور ان کے تعلق سے ان کا اپنا ایک ٹھوس نقطہ نظر تھا جو یہ ہیں (1)  ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی و فسطائیت، اس کے خطرناک نتائج اور اس کے تدارک کی ممکنہ صورتیں (2) ہندوستان میں دعوت دین کے امکانات اور اس کا طریقہ کار (3) تحریک اسلامی میں تنظیمی اصول وضوابط کا بے لچک نفاذ اور ان کی ایماندارانہ پیروی۔ ان کا ماننا تھا کہ اس ملک میں فرقہ پرستی وفسطائیت کی جڑیں تیزی سے گہری ہو رہی ہیں اور اگر اس مہلک وبا کو روکا نہیں گیا تو یہ ملک کو تباہ کن "خانہ جنگی” تک بھی پہنچا سکتی ہے، لیکن ملت کی سطح پر اس کے تدارک کا سب سے موثر ہتھیار اور فسطائیت کے زہر کا بہترین تریاق ان کے نزدیک دعوت دین کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ وہ موقع ملنے پر اپنی یہ باتیں پر زور انداز میں پیش کرتے اور کہیں کسی اور کی طرف سے اس کے مطابق نقطہ نظر آتا تو اس کی دل سے تائید بھی کرتے۔ تقریبا تین سال قبل جامعة الفلاح بلیریا گنج میں اس وقت کے امیر حلقہ نعیم صاحب کی امارت میں جماعت اسلامی یو پی (مشرق) کا ایک آل ارکان تربیتی اجتماع تھا جس کے سب سے اہم اور آخری اجلاس میں امیر جماعت اسلامی مولانا جلال الدین عمری اور نصرت صاحب کی گفتگووں کے علاوہ "ملک میں فسطائی عناصر کے عزائم۔۔۔۔” پر آخر میں میرا ایک تفصیلی لکچر تھا، اجلاس ختم ہوا تو نصرت صاحب نے اسٹیج سے نیچے اتر کر جاتے جاتے مسکرا کر ہاتھ ملایا اور تائید میں زور زور سر ہلاتے ہوئے میرا ایک جملہ دہرا کر کہا "ہاں دعوت بمقابلہ فسطائیت”۔ یہ واقعہ بطور مثال پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کا یہ مخصوص انداز اظہار فکر یا تائید کی صورت میں اسی وقت سامنے آتا ہے جب متعلقہ معاملے میں پہلے سے اس کی اپنی ایک سوچی سمجھی سنجیدہ رائے ہو۔ اسی طرح تنظیمی معاملات میں بھی وہ ایک بالیدہ شعور کے مالک تھے اور یہ جانتے تھے کہ تحریک کی اپنی ترجیحات اور اس کی اپنی روایات کی بقا انہیں اصولوں کی مرہون منت ہے، انہیں معلوم تھا کہ کہاں تک اصولوں میں لچک پیدا کی جا سکتی ہے اور وہ کیا حدود ہیں جن کی پاسداری ہر حال میں لازم ہے اور ان کا توڑنا تحریک کے مستقبل کو کس طرح داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام مرحلوں پر، چاہے وہ اخلاقی امور سے متعلق ہوں یا مالی مسائل سے ان کی رائے میں اصولوں سے سمجھوتا کرنا ناقابل برداشت ہونا چاہیے۔۔

ہماری عادت ہے کہ ہم ملت کی ہر نمایاں شخصیت کو اس کے کسی خاص وصف سے پہچانتے ہیں، نصرت صاحب کی سب سے بڑی پہچان ان کی سادگی و بے نفسی تھی۔ مجھے بارہا مختلف حیثیتوں سے ان سے ملنے یا مختلف نشستوں میں ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا، اس دوران مجھے کبھی اور کسی بھی زمانے میں ان کی اس خصوصیت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، ان کا سادہ لباس، سادہ انداز گفتگو، ان کا سادہ رہن سہن، ان کا ظاہر اور ان کا باطن غرض کہ ان کے جس پہلو پر بھی نظر پڑی ہر جگہ ان کی یہی خصوصیت ان کی امتیازی شان کی طرح نہ صرف ابھر کر ہمارے سامنے آئی بلکہ ہمیں حد درجہ متاثر کیا۔ وہ ایک مفکر، ایک آئیڈیا لوگ یا ایک نظریہ ساز بھلے نہ رہے ہوں لیکن بے شک وہ ان لوگوں میں سے ضرور تھے جنہیں دیکھ کر تحریک کے مستقبل اور جماعت کے تنظیمی فیصلوں کے تعلق سے دل مطئن رہتا تھا، وہ اپنی خاموش تربیت سے نئی نسلوں کو تحریک اور اس کے فکر کا گرویدہ بناتے اور سفر و حضر دونوں میں ان کے مزاج کو تحریکی مزاج سے ہم آہنگ کرنے کی پوری کوشش کرتے۔ ان کے بارے میں یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ اپنی سادگی، سادہ مزاجی اور بے نفسی و بے لوثی میں ایک ولی تھے اور اخلاص و ایمانداری میں جماعت کے دور اول کی ایک مکمل یاد گار تھے، خواہ وہ شرق ہو یا غرب، خواہ وہ مقام سرد ہو یا مقام گرم ان کی اپنی شناخت اور قبا کے رنگ میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی اپنے فکر و عمل سے انہوں نے کبھی اہل تحریک کو مایوس کیا۔
وہ ان بندگان خدا میں سے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہماری طرح رہتے تو اسی دنیا میں ہیں لیکن اس دنیا کی انہیں ہوا تک نہیں لگتی، اپنی منزل اور اپنے کارواں کی محبت اور اپنے فکر و عقیدہ سے ان کی حمیت دونوں منفرد ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں کاوش ہوتی ہے زیبائش نہیں اور ان کے یہاں کردار کی کشش ہوتی ہے ظاہری آرائش نہیں اور آج کے دور میں ایسے درویشوں کی مثال لانا آسان نہیں ہے:

وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مرد
محبت  میں  یکتا  ، حمیت میں فرد

اقبال نے مومن کی سادگی پر سو رنگ سے مضمون باندھا ہے، ان کے سادہ مزاج "صوفی” کی پیروی کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ، وہ ایسا محو حق انسان ہوتا ہے جو محبت میں یگانہ اور طبیعت میں بیگانہ ہوتا ہے اور اپنی محبت وحمیت اور رنگ ومزاج میں یکتا ومنفرد رہتا ہے۔ نصرت صاحب اسی طرح کے زہد وسادگی کی ایک ایسی زندہ مثال تھے جس کے اوصاف کا رنگ اب دینی حلقوں میں معدوم ہوتا جا رہا ہے۔  وہ کہیں "عجم کے خیالات” میں گم ہو رہا ہے تو کہیں جدید لیکن متذبذب طرز سالکی کے "مقامات و مناظر” میں گھل کر ختم ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس کو ان کی آرام گاہ بنائے اور ملت کو ان جیسے خادموں اور تحریک کو ان جیسے رہنماوں سے کبھی محروم نہ کرے۔

***

وہ ان بندگان خدا میں سے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہماری طرح رہتے تو اسی دنیا میں ہیں لیکن اس دنیا کی انہیں ہوا تک نہیں لگتی، اپنی منزل اور اپنے کارواں کی محبت اور اپنے فکر و عقیدہ سے ان کی حمیت دونوں منفرد ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں کاوش ہوتی ہے زیبائش نہیں اور ان کے یہاں کردار کی کشش ہوتی ہے ظاہری آرائش نہیں اور آج کے دور میں ایسے درویشوں کی مثال لانا آسان نہیں ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 9 مئی تا 15 مئی 2021