تفسیر ’ قرآن عزیز‘ شاہ ولی اللہ کی فکر کی عکاس

شجاعت و عزیمت کے پیکر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قرآنی خدمات پر ایک نظر

ڈاکٹر سید وہاج الدین ہاشمی

 

مولانا احمد علی لاہوری، ‎گکھڑ گوجرانوالہ‎‎کے نزدیک قصبہ‎ ‎جلال بلگن‎ ‎میں ‎ ۲۵‎مئی ۱۸۶۱ میں پیدا ‏ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شیخ حبیب اللہ تھا جو سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے تھے۔ مولانا احمد علی نو سال کے تھے کہ والد کے سایہ سے محروم ہوگئے۔ ابتدائی تعلیم گھر میں والدہ سے حاصل کی پھر گوجرانوالہ میں ایک درویش صفت بزرگ مولانا عبدالحق سے فارسی اور بنیادی تعلیم حاصل کی۔ چونکہ مولانا عبیداللہ سندھی آپ کے سوتیلے والد تھے، اس لیے مولانا سندھی سے خصوصی تربیت پائی۔ اس کے علاوہ مولانا غلام محمد دین پوری اور تحریک آزادی ہند کے جانباز سپاہی مولانا تاج محمود امروٹی سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا۔ جب گوٹھ پیر جھنڈا میں مدرسہ دارالرشاد کا قیام عمل میں آیا تو مولانا لاہوری کو مولانا سندھی نے وہاں داخل کرادیا، یہاں پر آپ نے نہایت محنت و شوق سے چھ سال تک علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد اسی مدرسہ میں مدرس مقرر ہوئے۔ درس و تدریس اور اشاعت اسلام کے ساتھ ساتھ مولانا نے جنگ آزادی میں بھی نمایاں حصہ لیا اور اس سلسلے میں متعدد مرتبہ گرفتار ہوئے۔ جب مولانا عبیداللہ سندھی نے ’’جمعیت الانصار‘‘ قائم کی تو مدرسہ دارالرشاد سے مولانا لاہوری کو اپنے پاس بُلالیا اور نظارۃ المعارف القرآنیہ کے نام پر علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کی ایک مخلوط جماعت تیار کی۔ ۱۹۱۵ء میں شیخ الہند مولانا محمود حسن نے مولانا سندھی کو کابل بھیجا تو نظارۃ المعارف القرآنیہ کا سارا نظام آپ کے سپرد رہا۔
مولانا لاہوری نے اس جماعت کی تنظیم میں مولانا سندھی کا پورا پورا ساتھ دیا۔ تحریک ریشمی رومال میں بھی آپ نے موثر رول ادا کیا۔تحریک ریشمی رومال انگریز سے برصغیر کی آزادی حاصل کرنے کا ایک منصوبہ تھا مگر بد قسمتی سے یہ منصوبہ قبل از وقت طشت ازبام ہو گیا۔ انگریز نے اس تحریک کے قائدین اور اس سے وابستہ کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کیا تو مولانا احمد علی لاہوری کو گرفتار کر کے دہلی، شملہ، لاہور اور جالندھر کی مختلف حوالاتوں میں کئی ماہ گزارنے کے بعد آپ کو مشروط طور پر پابند ضمانت کر کے لاہور میں رہا کر دیا گیا ۔ آپ پر دہلی اور سندھ جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ مولانا احمد علی کی اہلیہ بھی لاہور آگئیں۔ لاہور کی زندگی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے جس وجہ سے آپ لاہوری کہلاتے ہیں۔
۱۹۱۷ء میں رہائی کے بعد آپ لاہور تشریف لائے۔یہاں آپ نے درس قرآن کا سلسلہ جاری کیا جو آپ کی وفات تک جاری رہا۔ تحریک خلافت کے زمانے میں مولانا احمد علی لاہوری تحریک خلافت صوبہ پنجاب کے صدر تھے۔ ۱۹۲۲ء میں انجمن خدام الدین کا قیام عمل میں لایا گیا، قرآن اور سنت کی اشاعت کو انجمن خدام الدین کا نصب العین قرار دیا گیا۔ انجمن نے وقتی ضروریات کے مطابق دینی، اصلاحی اور سماجی ضرورتوں کے لیے قرآن وسنت کے روشنی میں کئی رسالے اور کتابیں شائع کیں، یہ تمام رسالے اور کتابچے مولانا احمد علی لاہوری کے تحریر کردہ تھے، انجمن کی طرف سے’ خدام الدین‘ نام سے ایک ہفت روزہ دینی رسالہ جاری کیا۔ ۱۹۲۴ء میں انجمن خدام الدین کی زیر نگرانی مدرسہ قاسم العلوم کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۳۱ء کو مجلس احرار نے کشمیر کے مسئلے پر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی، مولانا اس تحریک میں پیش پیش تھے، دیگر حضرات کے ساتھ مولانا بھی گرفتار کر لیے گئے۔ ۱۹۵۶ء میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کا قیام عمل میں آیا جس کے لیے مولانا احمد علی لاہوری کو امیر منتخب کیا گیا۔
مولانا لاہوری نے ۱۹۲۵ء میں ترجمہ قرآن کی ابتدا کی اور ۱۹۲۷ء میں ’قرآن عزیز ‘ کے نام سے ترجمہ مع حواشی شائع ہوا۔ ۹۹۶ صفحات پر مشتمل اس ترجمہ وتفسیری حواشی پر چودہ نامور علماء کی تقاریظ ہیں۔ انجمن خدام الدین دروازہ شیرانوالہ کے زیر اہتمام یہ ترجمہ شائع ہوا۔ اس ترجمہ کے لیے مولانا لاہوری نے تین تراجم فتح الرحمن، موضح قرآن اور ترجمہ شیخ الہند سے خصوصی طور پر استفادہ کیا ہے۔ آپ نے اس ترجمہ میں علوم وافکار ولی اللہ کو اپنا خاص مرجع بنایا ہے۔اس سلسلہ میں مولانا اخلاق حسین قاسمی لکھتے ہیں: "علماء ہند میں شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالقادر صاحب کے قرآنی علوم کا سب سے بڑا شارح اور ترجمان اگر کوئی تھا تو وہ مولانا احمد علی کی ذات گرامی تھی”۔
(۱) مولانا لاہوری کے ترجمہ قرآن پر ایک مشترکہ مقالہ میں حافظ سعید احمد عبداللہ نے اس طرح اظہار خیال کیا ہے: "مولانا کے دروس اور تفسیری حواشی میں عزیمت و حق گوئی کا عکس نظر آتا ہے۔ قرآنی آیات سے اجتماعیت وسیاسیات کے اصول اخذ کر کے انہیں موجودہ ماحول پر منطبق کرنا اس ترجمہ کا خاص وصف ہے”۔
(۲) اس تفسیری ترجمہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا نے اولاً ہر سورۃ کا خلاصہ اور مرکزی مضمون انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے مثلاً قرآن مجید کی سب سے طویل سورت، سورہ بقرہ کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے: رکوع ایک تا اٹھارہ مناظرہ بالیہود، انیس تا بیس تہذیب اخلاق، بیس تا تیئس تدبیر منزل، چوبیس تا اکتیس سیاست مدینہ کے دو شعبے، ملک گیری و ملک داری، بتیس تا آخر سورہ خلافت کبریٰ۔
(۳) اس طرح صرف عنوان کے ذریعہ پوری سورۃ کا جامع خلاصہ سامنے آجاتا ہے۔
مولانا نے عربی مدارس کے طلبہ کے لیے فہم قرآن کی تعلیم کا تین مہینہ کا نصاب مرتب کیا تھا جس کا مقصد طلبہ کو قرآنی معارف پر عبور حاصل کروانا تھا۔ ہند وپاک کے مشاہیر علماء مولانا لاہوری کے اس نصاب سے مستفید تھے۔ آپ کے دورہ تفسیر سے سینکڑوں لوگوں نے استفادہ کیا ہے جن میں علمائے کرام اور جدید تعلیم یافتہ نوجوان بیک وقت مستفید ہوتے۔ اس سلسلہ میں مولانا علی میاں لکھتے ہیں:” مولانا جب لاہور آئے یا لائے گئے تو تن تنہا تھے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر درس قرآن کا آغاز کیا تھا، لیکن جب اس شہر کو داغ مفارقت دیا تو خدا کے ہزاروں بندے سوگوار اور ان کے فراق میں اشک بار تھے۔
‏(۴) مولانا لاہوری کو قرآن مجید سے گہرا شغف اور والہانہ لگاو تھا، اس کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے مولانا ہمیشہ بے قرار رہتے تھے۔ قرآن مجید کے درس واشاعت کے بغیر چین نہیں آتا تھا اور وہ ان کی روح کی غذا اور درد کی دوا بن گیا تھا، ان کے نزدیک اس درس میں ناغہ کرنا گویا گناہ کبیرہ اور سخت کوتاہی تھی۔
‏(۵) مولانا لاہوری نے قرآن پاک کے اردو ترجمہ وتفسیری حواشی کے علاوہ قرآن مجید کا سندھی زبان میں ترجمہ، تفسیرالقرآن اور چونتیس چھوٹے چھوٹے رسالے تالیف فرمائے جن میں خلاصۃ المشکوۃ، مجلس ذکر کے مواعظ، جن میں تذکرہ رسوم الاسلامیہ، اسلام میں نکاح بیوگان، ضرورۃ القرآن، اصلی حنفیت، رسول اللہ ﷺ کے وظائف، میراث میں حکم شریعت، توحید مقبول، فوٹو کا شرعی فیصلہ، صد احادیث کا گلدستہ اور ’’فلسفہ روزہ‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
قرآنی پیغام کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ مولانا لاہوری نے اپنے شاگردوں کی باقاعدہ ایک جماعت تیار کی تھی اور برصغیر میں دروس قرآنی کے حلقے قائم کیے تھے۔ ان حلقوں سے قدیم و جدید طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ارباب علم نے استفادہ کیا جن میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، علامہ علاء الدین صدیقی اور ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔ علمائے کرام اور باصلاحیت جدید تعلیم یافتہ افراد کی قرآنی فکر سے ذہن سازی کی۔ مولانا کا خصوصی وصف جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کرتا ہے وہ حضرت شاہ ولی اللہ کی قرآنی بصیرت کو اول تا آخر اپنے اندر سمو لینا ہے۔ چنانچہ آپ کے تفسیری حواشی میں حضرت شاہ ولی اللہ کی فکر کا عکس غالب و نمایاں ہے۔برصغیر پاک وہند کی مساجد میں درس قرآن اور دینی مدارس میں دورہ تفسیر کی روایت قائم کرنے میں آپ نے بنیادی کردار ادا کیا۔
آپ داستان تحریک آزادی ہند کے امین تھے، ہر ملی مصیبت میں قوم کا ساتھ دیا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس مرد مجاہد نے ہر موقع پر کلمۃ الحق کہا، قرآن مجید اور سنت نبوی پر عمل کے لیے ہمیشہ زور دیتے رہے اور اگر ملت میں کسی طاغوتی طاقت نے کوئی فتنہ اٹھایا تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے۔ تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اگر حکومت وقت نے دین کے بارے میں کوئی خلاف شرع کام کیا تو اس پر ارباب اختیار کے سامنے کلمہ حق کہنے سے باز نہ آتے۔ چنانچہ سنہ ۱۹۳۱ء میں میکلیگن انجینرنگ کالج لاہور کے انگریز پرنسپل نے پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے آپ نے جرأت وبے باکی سے کام لے کر اس کے خلاف آواز بلند کی اس پر آپ کو گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد میں آپ کو باعزت طور پر رہا کر دیا گیا۔
مولانا نے تمام زندگی زہد و تقویٰ، پرہیز گاری، عبادت گزاری اور خدمت انسانیت میں بسر کی۔ وہ نہ صرف قرآن پاک کے عالم تھے بلکہ اس کے عامل بھی تھے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی لاہور میں آپ کے پاس قرآنی علوم کے حصول اور تزکیہ وتربیت کے لیے مقیم رہے، آپ لکھتے ہیں "اگر مولانا احمد علی صاحب سے ملاقات نہ ہوتی تو میری زندگی اچھی یا بری بہر حال موجودہ زندگی سے بہت مختلف ہوتی اور شاید اس میں ادب وتاریخ اور تصنیف وتالیف کے سوا کوئی ذوق اور رجحان نہ پایا جاتا، خدا شناسی اور خدا رسی، راہ یابی اور راست روی تو بڑی چیزیں ہیں، مولانا کی صحبت میں کم سے کم خدا طلبی کا ذوق، خدا کے نام کی حلاوت اور مردان خدا کی محبت، اپنی کمی اور اصلاح و تکمیل کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا، اور عامیوں کے لیے یہی بڑی دولت ونعمت ہے۔
(۵) اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مولانا احمد علی نے دین اسلام کی اشاعت اور فروغ میں گزارا۔ مولانا حرکیاتی شخصیت کے مالک تھے، ایک طرف ان کی زندگی تحریک آزادی کی جدوجہد سے پر نظر آتی ہے تو دوسری جانب قرآنی پیغام اور اس کی فکر کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ مولانا کی زندگی مسلمانان عالم کے لیے ایک پیغام ہے۔ ۲۳/فروری ۱۹۶۲ء کو آپ نے نماز عشاء میں بحالت سجدہ دنیائے فانی سے کوچ کیا اور لاہور کے قدیم قبرستان میانی صاحب میں آخری آرامگاہ پائی۔
حوالے:
۱۔مولانا اخلاق حسین قاسمی محاسن ، موضح قرآن،ص۔ ۸۲۱، ذوالنورین اکیڈمی ، بھیرہ ضلع سرگودھا، ۱۹۸۳ء
۲۔ مولانا احمد علی لاہوری کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ، حیات الاسلام، جلد ۱۰، جولائی دسمبر ۲۰۱۶، ص،۱۶
۳۔ ترجمہ مولانا احمد علی لاوری، ص۔۳
۴۔مولانا ابوالحسن ندوی، پرانے چراغ، ص، ۱۳۴، مجلس نشریات اسلام، کراچی
۴۔ مولانا احمد علی لاہوری کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ، حیات الاسلام، جلد ۱۰، جولائی دسمبر ۲۰۱۶، ص،۱۷
۵۔ ، پرانے چراغ، ص، ۱۳۴

قرآنی پیغام کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ مولانا لاہوری نے اپنے شاگردوں کی باقاعدہ ایک جماعت تیار کی تھی اور برصغیر میں دروس قرآنی کے حلقے قائم کیے تھے۔ ان حلقوں سے قدیم و جدید طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ارباب علم نے استفادہ کیا جن میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، علامہ علاء الدین صدیقی اور ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔ علمائے کرام اور باصلاحیت جدید تعلیم یافتہ افراد کی قرآنی فکر سے ذہن سازی کی۔ مولانا کا خصوصی وصف جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کرتا ہے وہ حضرت شاہ ولی اللہ کی قرآنی بصیرت کو اول تا آخر اپنے اندر سمو لینا ہے۔ چنانچہ آپ کے تفسیری حواشی میں حضرت شاہ ولی اللہ کی فکر کا عکس غالب و نمایاں ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 2 مئی تا 8 مئی 2021