اللھم بلغنا رمضان

رمضان المبارک کے شام و سحر

سیدہ دردانہ عتیقہ، بیدر

 

اللھم بلغنا رمضان۔۔!
میں شعبان میں اکثر یہ دعا پڑھتی رہی ہوں بلکہ اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ رٹتی رہی ہوں۔ اُدھر رجب کا چاند اترنے لگتا ہے اور اِدھر میری رمضان کی تیاری زور پکڑنے لگتی ہے۔ ما شاء اللہ۔ بھرے پورے گھر میں رہتی ہوں، کپڑوں سے لے کر گھر کی ضروریات، اناج دال پانی، نئے پردے، بیڈ کورز، غرض تمام چیزوں کی فہرست بنا کر دیورانی کے ساتھ شاپنگ پر نکل جاتی ہوں اور شعبان سے پہلے پہلے تمام ’ضروری‘ کام ختم کر لیتی ہوں تاکہ شعبان میں صرف دینی امور پر توجہ دے سکوں۔ میں ایک جدول بنا لیتی ہوں جس میں سحری سے لے کر افطار تک کی تمام مصروفیات کو الگ الگ وقت میں درج کر لیتی ہوں۔ فرض عبادات، نوافل، اذکار، تلاوت وغیرہ کے خاکہ بنا کر روزانہ کا حساب لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس کا مقصد خود کو یہ یاد دلاتے رہنا کہ ایسا ہی کوئی نامۂ اعمال روز لکھا جاتا ہے.
پھر رمضان آجاتا ہے اور…
یکم رمضان :
رمضان کا چاند دیکھ کر ایمان کی ایک لَو دل میں سرایت کر گئی پھر پہلا روزہ میں نے بہت اہتمام سے پورا کیا۔ الحمدللہ۔ وقت پر نمازیں، کثرتِ تلاوت، ذکر و اذکار درودِ شریف، تراویح غرض حتَّی الامکان کوشش کی تھی روزہ کو مکمل بنانے کی۔
دو رمضان:
افطار کی زیادتی کی وجہ سے طبیعت کچھ بوجھل رہی لیکن میں نے اپنے اعمال کو ترک نہ کیا۔ کچن میں بچوں کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے اذکار بھی جاری رہے
کچھ دن گزرے، خیال تو تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی روز ایک غریب گھرانے میں راشن بھجواؤں گی لیکن خیر ابھی تو شروعات ہے ناں ہو جائے گا وہ بھی-
دس رمضان:
آج دل کچھ اداس سا تھا کیوں کہ میں تلاوت نہیں کر پائی تھی، کل افطار پارٹی تھی ناں! تھوڑا تھک گئی تھی۔ آج ان شاء اللہ زیادہ پڑھ لوں گی لیکن کچھ دیر آرام کے بعد– (کچھ دیر بعد…) ’’اوہ! یہ کیا میں سوتی رہ گئی اور ظہر کا وقت بھی نکل گیا، یا ربّی اغفرلی!” دل میں خلش سی اٹھی لیکن چلو کوئی بات نہیں عصر کے ساتھ پڑھ کر تلاوت بھی کر لوں گی اور یوں اکثر ہونے لگتا کہ کبھی ظہر کے ساتھ فجر پڑھ رہی ہوتی تو کبھی تلاوت میں ترتیل کھو دیتی. رمضان کی مصروفیات بھی تو بہت ہوتی ہیں ناں۔
پندرہ رمضان:
آدھا مہینہ گزر گیا پتہ ہی نہ چلا ابھی تو عید کی تیاری بھی باقی ہے، بچیوں کے کپڑے سلوانے ہیں، بچوں کے جوڑے منگوانے ہیں اب عید کی خوشی تو بچوں کی ہی ہوتی ہے نا۔
سوچا تھا کہ اپنے بچوں کے ساتھ کسی غریب بچے کے لیے بھی کوئی جوڑا لے لوں لیکن وقت کی کمی کے باعث یہ ممکن نہیں لگ رہا۔ آخر مجھے رمضان میں زیادہ عبادات بھی تو کرنی ہیں۔
بیس رمضان:
کل سے طاق راتیں شروع ہوں گی، بالکل لا پروائی نہیں اب تک جو میں نے کیا سو کیا، اب ان طاق راتوں میں بہت اہتمام کے ساتھ عبادات کروں گی. شکر ہے شاپنگ تو پوری ہوئی۔
’’ارے اللہ! میں تو بھول ہی گئی، کئی لوگ کافی دنوں سے صدقہ، خیرات، زکوٰۃ وغیرہ کے سلسلہ میں بات کر رہے تھے اُن مستحقین تک ان کا حق رمضان ختم ہونے سے پہلے ہی پہنچ جائے تو اچھا ہے، کاش یہ کام میں شروع رمضان میں ہی کر لیتی۔‘‘ ایک اور پچھتاوا۔۔
طاق راتیں :
پھر طاق راتوں میں ہونے والی افطار کی دعوتوں میں کچھ الگ ہی مصروفیت رہی، کیا بتاؤں کتنا مشکل ہو جاتا تھا فرض نماز کے لیے بھی وقت نکالنا، تلاوت تو اکثر رہ جاتی تھی. پھر بھی میں نے اپنی پوری کوشش کر کے عید کی تیاری کے ساتھ ساتھ عبادت بھی جاری رکھی۔
انتیس رمضان:
’’یا اللہ! آج آخری روزہ ہے مجھ پر رحم فرمائیے، کتنا کچھ باقی ہے ابھی! نہ قران مکمل ہوئی، نہ ہی کوئی سورۃ ہی یاد کر پائی، تراویح بھی کتنی ساری چھوٹ گئیں؟ یا اللہ!
صدقہ، خیر..ررر..اات!..
یا ربِ کائنات!!! ابھی فطرہ کا انتظام بھی باقی ہے اچھا ہوا ‘جلدی’ یاد آگیا، عصر تک یہ کام کر لوں گی۔
بوکھلاہٹ سے برا حال تھا میرا کہ رمضان میں ضروری طور پر ہونے والے کام اب بھی ادھورے ہی تھے. دل میں ضمیر پر زور شکوے کر رہا تھا لیکن میں نے پھر سے مصروفیت کی آڑ لے لی. اب کل عید بھی تو ہے. مصروفیت تو ہوگی ہی.
یکم شوال، بعد مغرب:
امی کی کال آئی.
امی : ’’ہو گئی عید کی تیاری؟‘‘
میں : ’’جی امی! ہو گئی۔‘‘
میری ایک طائرانہ نظر پورے گھر میں گھوم آئی. نئے پردے اور ان کے ہم رنگ صوفوں اور دیوان کا سیٹ. سارا تزئین و آرائش کا سامان قرینے سے سجایا تھا میں نے۔
پھر بھی جانے کیوں کچھ ٹوٹا تھا اندر میرے۔ جیسے بہت کچھ نامکمل ہے۔ کوئی کمی باقی ہے۔ نہ رمضان مکمل گزرا نہ عید کی تیاری ہی مکمل لگ رہی تھی.
عید آئی…چلی بھی گئی….کچھ دن اور مہینے اور گزرے…
پھر سے شعبان کا مہینہ: اور میری دعا بھی شروع
اللھم بلغنا رمضان……اللھم بلغنا رمضان……..
قارئین!
یہاں کچھ دیر رک کر سوچیں کیا ایک مومنہ کی حیثیت سے میری عید اس طرح پچھتاوے کے ساتھ گزرنی چاہیے تھی؟
میں عید کی دلی خوشی کو کیوں حاصل نہ کر پائی؟
کیا میری مصروفیات بزدلانہ جواز نہیں تھیں، فرار کا ذریعہ نہیں تھیں؟ اور فرار بھی کس سے؟ رمضان کی فضیلت و برکات کے حصول سے؟
رمضان میں اللہ تعالیٰ اتنے بہترین آفرز دیتے ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں ہم گھاٹے کا سودا کرتے ہیں؟
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ رمضان کی مصروفیات صرف اور صرف عبادات کو بنائیے باقی تمام امور پسِ پشت ڈال دیجیے۔ کہیں آپ کی عید بھی میری طرح پچھتاوے کی نذر نہ ہو جائے۔
ateeqanadeem4@gmail.com

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، خصوصی شمارہ 11 اپریل تا  17 اپریل 2021